سی پیک کے تحت صنعت، برآمدات ،سرمایہ کاری کے فروغ پر یکساں توجہ دی جائے‘ پیاف

بدھ 29 جولائی 2026 22:51

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 جولائی2026ء) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن انچیف پیاف انجینئر سہیل لاشاری ،چیئرمین سید محمود غزنوی،سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی،وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے بھرپور استفادہ کرنے کیلئے مطلوبہ ادارہ جاتی اصلاحات اور موثر پالیسی سازی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ،آئندہ مرحلے میں حکومت کو صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر پر نہیں بلکہ صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ پر یکساں توجہ دینا ہوگی۔

پیاف کے رہنمائوں نے کہا کہ سستی اور قابل اعتماد توانائی، مسابقتی صنعتی زونز، شفاف پالیسیوں اور بہتر طرزِ حکمرانی کے بغیر سی پیک کی حقیقی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔

(جاری ہے)

گوادر پورٹ کو فعال تجارتی اور صنعتی مرکز بنانے کے لیے مقامی صنعت، ہنرمند افرادی قوت، جدید لاجسٹکس اور کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو سی پیک کے دوسرے مرحلے میں خصوصی اقتصادی زونز کو جلد فعال بنانے، مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یکساں سہولتیں فراہم کرنے اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کی حوصلہ افزائی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی اور نجی شعبے کے لیے آسان کاروباری ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پیاف کے رہنمائوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات میں ترجیحی حصہ دیا جائے تاکہ ترقی کے ثمرات مقامی سطح تک پہنچیں اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور موثر عملدرآمد کے ذریعے ہی سی پیک کو پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی، صنعتی مسابقت اور برآمدات میں اضافے کا حقیقی ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔