چین کو کی جانے والی قومی برآمدات میں رواں سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 50.64 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے،رپورٹ

جمعرات 30 جولائی 2026 10:32

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جولائی2026ء) چین کو کی جانے والی قومی برآمدات میں رواں سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 50.64 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چائنہ اکنامک نیٹ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال میں جنوری تا جون 2026 کے دوران برآمدات کا حجم 1.874 ارب ڈالر تک برھ گیا جبکہ جنوری تا جون 2025 کے دوران چین کو کی جانے والی برآمدات سے 1.244 ارب ڈالر زرمبادلہ کمایا گیا تھا۔

اس طرح سال 2025 کے مقابلہ میں رواں سال 2025 کے پہلے 6 ماہ کے دوران چین کو کی جانے والی قومی برآمدات میں 0.630 ارب ڈالر یعنی 50.64 فیصد کی نمایاں بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں سال ابتدائی چھ مہینوں میں ہر ماہ برآمدات میں اضافہ کا رحجان رہا ہے جبکہ مارچ 2026 کے دوران برآمدات میں 84.22 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

اعدادو شمار کے مطابق مارچ 2025 میں چین کو کی جانے والی برآمدات کی مالیت 196.16 ملین ڈالر تھی تاہم مارچ 2026 کے دوران برآمدات کا حجم 165.21ملین ڈالر یعنی 84 فیصد سے زیادہ کے اضافہ سے 361.37 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین کو کی جانے والی برآمدات میں اضافہ کے بنیادی اسباب میں پاکستان کی زراعت کی صنعتوں کی برآمدات میں ہونے والا اضافہ شامل ہے۔ زرعی صعنتی شعبہ کی چینی ، بائیو ماس (حیاتی فضلہ) اور متفرق مصنوعات کی برآمدات میں سال رواں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق چین کو کی جانے والی برآمدات میں ششماہی بنیاد پر 50.64 فیصد کے اضافہ کے بنیادی اسباب میں پاک چین صنعتی شراکت داری میں وسعت بنیادی کردار کی حامل ہے جس کے نتیجہ میں پاکستانی برآمدکنندگان چین کے توانائی اور مینو فیکچرنگ سیکٹرز کے لئے اہم برآمدکنندگان بن چکے ہیں۔

دوسری جانب بینکاری کے شعبہ میں بنیادی ڈھانچہ کی ترقی سے پاکستانی برآمدکنندگان چین کی فنانشل فنانسنگ کے نظام سے مستفید ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے قومی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔