بھارتی حکومت نہتے کشمیریوں کے خلاف جاری ریاستی دہشت گردی چھپا کر بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے،حریت کانفرنس

جمعرات 30 جولائی 2026 15:49

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 جولائی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس نے تنازعہ کشمیر پر ہٹ دھرمانہ بھارتی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قیادت جارحانہ اپنے اقدامات اور مسلسل فوجی جبر کے بارے میں عالمی برادری کو گمراہ کر رہی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کشمیر کے حوالے سے بھارت کی ظالمانہ پالیسی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت جموں وکشمیر پرجاری اپنے غیر قانونی قبضے اور نہتے کشمیریوں کے خلاف جاری ریاستی دہشت گردی چھپا کر بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور انتہائی ڈھٹائی کیساتھ اٹوٹ انگ کی رٹ جاری رکھے ہوئے ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حکومت اپنے ہندوتوا نظریے کو زبردستی مسلط کر رہی ہے اور مقبوضہ علاقے میں سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں اور پٹوار خانوں بھارتی ترنگا لہرا کر بھارتی قومی علامتوں کو فروغ دے رہی ہے۔ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ایسے اقدامات سے جموں و کشمیر کی سیاسی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کشمیریوں کے آزادی کے مطالبے کو دبانے کے لیے جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ظالمانہ اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبا رہی ہے۔ حریت کانفرنس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز بے گناہ لوگوں کو گرفتار کرنے اور انہیں بھارت سے آزادی کا مطالبہ کرنے سے روکنے کے لیے مقبوضہ علاقے میں وسیع پیمانے پر گھروں پر چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ترجمان کہا کہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسیوں ’’این آئی اے، ایس آئی اے ، ای ڈی ‘‘وغیرہ کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے کارکنوں کو گرفتار کرنے اور ان کی جائیدادوں کو ضبط کرکے کشمیریوں کو خاموش کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

ترجمان نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے کی ابترصورتحال کا نوٹس لیں، یہ کہتے ہوئے کہ جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی طرف سے مقرر کردہ استصواب رائے کے نفاذ کا مطالبہ کرنے پر علاقے کے لوگوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔اے پی ایچ سی نے لوگوں سے 5 اگست کو یوم استحقاق کشمیر کے طور پر یوم سیاہ کے طور پر منانے کی بھی اپیل کی۔

ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا اور اس کے بعد اس خطے کو سخت فوجی اور پولیس لاک ڈان میں ڈال دیا۔بیان میں 5 اگست 2019 کے بھارت کے اقدامات کو منسوخ کرنے، تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی، IIOJK میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔