اگست آزادی کا مہینہ ہے، جسے پورے جوش و جذبے سے منایا جائے گا،علی خورشیدی

ہفتہ 1 اگست 2026 22:11

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 اگست2026ء) سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما علی خورشیدی نے کہا ہے کہ اگست آزادی کا مہینہ ہے، جسے پورے جوش و جذبے سے منایا جائے گا، جبکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل، نوجوانوں کے بہتر مستقبل اور انتظامی اصلاحات کے لیے قومی سطح پر "گرینڈ ڈیبیٹ" ناگزیر ہو چکی ہے۔

علی خورشیدی نے اپنی جماعت کے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کے ہمراہ مزارِ قائد پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان پورے اگست یومِ آزادی کی تقریبات منعقد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیغام صرف کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ہے کہ ہر سطح پر یومِ آزادی قومی جذبے کے ساتھ منایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ 13 اگست کی شب ایم کیو ایم پاکستان کا مرکزی جشنِ آزادی پروگرام فائیو اسٹار چورنگی پر منعقد ہوگا، جس کی قیادت پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کریں گے۔

علی خورشیدی نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے پوری قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد بھی پیش کی۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل اور معاشی مشکلات کے باوجود پوری قوم پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی حالیہ صورتحال میں پاکستان کی مسلح افواج اور سیاسی قیادت نے بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، دعا ہے کہ ملک جلد معاشی بحران سے نکل آئے، تاہم اس کے لیے مشکل مگر ضروری فیصلے کرنا ہوں گے۔

علی خورشیدی نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے قائم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خاندانی سیاست کے بجائے عام پاکستانی کے مفاد کو ترجیح دی جائے اور حکومت و ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے فیصلہ سازوں کو قومی مفاد میں جرات مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے سخت مگر ضروری فیصلے ناگزیر ہیں۔ ان کے بقول چونکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، اس لیے انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔علی خورشیدی نے زور دیا کہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے قومی سطح پر ایک "گرینڈ ڈیبیٹ" ہونی چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان کو ماضی کے انداز میں مزید نہیں چلایا جا سکتا۔