لہروں سے جنگ لڑنے والے محافظ، 4 اگست کو سمندری محافظوں کی خدمات کو خراجِ تحسین
پیر 3 اگست 2026 20:48
(جاری ہے)
ساحلی محافظوں کا کام صرف سمندری سرحدوں کی نگرانی تک محدود نہیں بلکہ ان کی ذمہ داریوں میں سمندر میں پھنسے افراد کو تلاش کرکے بچانا، بحری جہازوں اور کشتیوں کو ہنگامی امداد فراہم کرنا، بحری قوانین پر عمل درآمد کرانا، اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام، بندرگاہوں اور آبی گزرگاہوں کی حفاظت اور سمندری ماحول کے تحفظ میں معاونت شامل ہے۔
شدید طوفان، بلند لہروں، خراب موسم اور دشوار سمندری حالات کے باوجود یہ محافظ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھتے ہیں۔امریکی ساحلی محافظ ادارے کی جدید شکل 1915ئ میں اس وقت وجود میں آئی جب بحری محصولاتی خدمت اور زندگی بچانے والی خدمت کو یکجا کیا گیا۔ اس انضمام کے بعد ایک ایسا ادارہ تشکیل پایا جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں قانون کا نفاذ اور انسانی جانوں کا تحفظ دونوں شامل تھے۔ بعد میں اس ادارے کے فرائض میں قومی دفاع، بحری جہاز رانی کی حفاظت، ماحولیاتی تحفظ اور سمندری سلامتی کے دیگر شعبے بھی شامل ہوگئے۔پاکستان کے لیے بھی ساحلی محافظوں کی اہمیت انتہائی نمایاں ہے۔ بحیرہ عرب کے ساتھ واقع طویل ساحلی پٹی کی نگرانی، اسمگلنگ کی روک تھام اور ساحلی علاقوں کی سلامتی میں پاکستان کوسٹ گارڈز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈز کو ساحلی علاقوں میں اسمگلنگ اور غیر قانونی آمدورفت کی روک تھام، دشمن عناصر کی دراندازی روکنے اور ضرورت پڑنے پر ملکی دفاع میں معاونت کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔پاکستان کوسٹ گارڈز کی تشکیل بھی ملک کی ساحلی ضروریات کے تناظر میں ہوئی۔ سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق گوادر کے پاکستان کا حصہ بننے کے بعد ملک کی ساحلی پٹی میں نمایاں اضافہ ہوا اور اس وسیع علاقے کی نگرانی کے لیے ایک منظم ساحلی محافظ فورس کی ضرورت محسوس کی گئی۔ جون 1971ء میں کراچی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کا ابتدائی صدر دفتر قائم کیا گیا، جبکہ اکتوبر 1972ء میں اس فورس کے قیام کا اعلان ہوا اور بعدازاں پاکستان کوسٹ گارڈز ایکٹ 1973ء کے ذریعے اسے قانونی حیثیت دی گئی۔ساحلی محافظوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران انتہائی مشکل حالات کا سامنا رہتا ہے۔ سمندری طوفان، بلند لہریں، شدید بارش، رات کی تاریکی اور دشوار گزار ساحلی علاقے ان کی ذمہ داریوں کو مزید خطرناک بناتے ہیں، لیکن کسی انسانی جان کو خطرہ لاحق ہونے یا ملکی ساحلی حدود کی نگرانی کا معاملہ ہو تو یہ اہلکار اپنی جان کی پروا کیے بغیر فرائض انجام دیتے ہیں۔ سمندر میں کسی کشتی کے لاپتا ہونے، کسی جہاز کے حادثے کا شکار ہونے یا کسی شخص کے پانی میں پھنس جانے کی صورت میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں ساحلی محافظوں کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔مزید قومی خبریں
-
پیپلزپارٹی کے مرد تو کم ہیں مگر عورتیں زیادہ ہیں جو بدتمیزی پہ اتری ہوئی ہیں
-
چھرے والی بندوق عظمی بخاری ہے جو صدر زرداری کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے
-
کراچی: 23 سالہ نوجوان سیکیورٹی گارڈ نے اپنی رائفل سے خود پر ہی گولی چلادی
-
شوگرملز ایسوسی ایشن نے ہر سال کی طرح اس سال بھی چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ لی
-
راولپنڈی، اڑھائی سالہ مغوی بچہ بازیاب ،ملزم گرفتار
-
اسلام آباد پولیس کیگرینڈ سرچ اینڈ کومنگ آپریشنز ،11 مشکوک افراد ،22 موٹر سائیکل تھانہ جات منتقل
-
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا دورہ سوات ، کبل دھماکے کے زخمیوں کی عیادت، دہشت گردی کیخلاف سخت اقدامات کا اعلان
-
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات
-
وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا محکمہ اطلاعات کے ملازم شان مخدوم اور سینئر صحافی مدثر شاہ آفریدی کی وفات پر اظہار افسوس
-
آزادکشمیرکے انتخابات میں تاریخی دھاندلی کی گئی، وفاقی حکومت کی الٹی گنتی کا وقت شروع ہو گیا،شرجیل میمن
-
یہ نہیں ہو سکتا آپ بات کریں اور نئے صوبے بن جائیں، محسن نقوی نے عجیب بات کی جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، راناثنا ء اللہ
-
جشن آزادی صرف قومی تہوار نہیں ،قومی اتحاد، یکجہتی، شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.