لہروں سے جنگ لڑنے والے محافظ، 4 اگست کو سمندری محافظوں کی خدمات کو خراجِ تحسین

پیر 3 اگست 2026 20:48

پنگریو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 اگست2026ء) 4 اگست کو ساحلی محافظ دن کے موقع پر سمندری حدود کی حفاظت، انسانی جانوں کے بچاؤ، بحری قوانین کے نفاذ اور سمندر میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے خدمات انجام دینے والے ساحلی محافظوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دن بنیادی طور پر امریکا کے ساحلی محافظ ادارے کی تاریخ سے وابستہ ہے، تاہم سمندری سلامتی اور انسانی جانوں کے تحفظ کا پیغام دنیا بھر کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

4 اگست 1790ئ کو امریکی صدر جارج واشنگٹن نے دس بحری جہازوں پر مشتمل ایک خدمت قائم کرنے کی منظوری دی تھی، جس کا بنیادی مقصد محصولات کے قوانین کا نفاذ اور سمندر کے راستے اسمگلنگ کی روک تھام تھا۔ یہی ادارہ وقت کے ساتھ ترقی کرتے ہوئے موجودہ ساحلی محافظ ادارے کی بنیاد بنا۔

(جاری ہے)

ساحلی محافظوں کا کام صرف سمندری سرحدوں کی نگرانی تک محدود نہیں بلکہ ان کی ذمہ داریوں میں سمندر میں پھنسے افراد کو تلاش کرکے بچانا، بحری جہازوں اور کشتیوں کو ہنگامی امداد فراہم کرنا، بحری قوانین پر عمل درآمد کرانا، اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام، بندرگاہوں اور آبی گزرگاہوں کی حفاظت اور سمندری ماحول کے تحفظ میں معاونت شامل ہے۔

شدید طوفان، بلند لہروں، خراب موسم اور دشوار سمندری حالات کے باوجود یہ محافظ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھتے ہیں۔امریکی ساحلی محافظ ادارے کی جدید شکل 1915ئ میں اس وقت وجود میں آئی جب بحری محصولاتی خدمت اور زندگی بچانے والی خدمت کو یکجا کیا گیا۔ اس انضمام کے بعد ایک ایسا ادارہ تشکیل پایا جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں قانون کا نفاذ اور انسانی جانوں کا تحفظ دونوں شامل تھے۔

بعد میں اس ادارے کے فرائض میں قومی دفاع، بحری جہاز رانی کی حفاظت، ماحولیاتی تحفظ اور سمندری سلامتی کے دیگر شعبے بھی شامل ہوگئے۔پاکستان کے لیے بھی ساحلی محافظوں کی اہمیت انتہائی نمایاں ہے۔ بحیرہ عرب کے ساتھ واقع طویل ساحلی پٹی کی نگرانی، اسمگلنگ کی روک تھام اور ساحلی علاقوں کی سلامتی میں پاکستان کوسٹ گارڈز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سرکاری معلومات کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈز کو ساحلی علاقوں میں اسمگلنگ اور غیر قانونی آمدورفت کی روک تھام، دشمن عناصر کی دراندازی روکنے اور ضرورت پڑنے پر ملکی دفاع میں معاونت کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔پاکستان کوسٹ گارڈز کی تشکیل بھی ملک کی ساحلی ضروریات کے تناظر میں ہوئی۔ سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق گوادر کے پاکستان کا حصہ بننے کے بعد ملک کی ساحلی پٹی میں نمایاں اضافہ ہوا اور اس وسیع علاقے کی نگرانی کے لیے ایک منظم ساحلی محافظ فورس کی ضرورت محسوس کی گئی۔

جون 1971ء میں کراچی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کا ابتدائی صدر دفتر قائم کیا گیا، جبکہ اکتوبر 1972ء میں اس فورس کے قیام کا اعلان ہوا اور بعدازاں پاکستان کوسٹ گارڈز ایکٹ 1973ء کے ذریعے اسے قانونی حیثیت دی گئی۔ساحلی محافظوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران انتہائی مشکل حالات کا سامنا رہتا ہے۔ سمندری طوفان، بلند لہریں، شدید بارش، رات کی تاریکی اور دشوار گزار ساحلی علاقے ان کی ذمہ داریوں کو مزید خطرناک بناتے ہیں، لیکن کسی انسانی جان کو خطرہ لاحق ہونے یا ملکی ساحلی حدود کی نگرانی کا معاملہ ہو تو یہ اہلکار اپنی جان کی پروا کیے بغیر فرائض انجام دیتے ہیں۔

سمندر میں کسی کشتی کے لاپتا ہونے، کسی جہاز کے حادثے کا شکار ہونے یا کسی شخص کے پانی میں پھنس جانے کی صورت میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں ساحلی محافظوں کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔