امریکا نے کاروباری اور سیاحتی ویزوں کے لیے ویزا بانڈ پروگرام مستقل کر دیا

بعض ممالک کے شہریوں کو ویزا حاصل کرنے کے لیے 20 ہزار ڈالر تک بطور ضمانت جمع کرانا پڑ سکتے ہیں . امریکی حکام

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل 4 اگست 2026 15:48

امریکا نے کاروباری اور سیاحتی ویزوں کے لیے ویزا بانڈ پروگرام مستقل ..
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 اگست ۔2026 ) امریکہ نے کاروباری اور سیاحتی ویزوں کے لیے ویزا بانڈ پروگرام مستقل کر دیا ہے، جس کے تحت بعض ممالک کے شہریوں کو ویزا حاصل کرنے کے لیے 20 ہزار ڈالر تک بطور ضمانت جمع کرانا پڑ سکتے ہیں امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر امریکہ میں قیام کی بلند شرح، شناخت اور مجرمانہ ریکارڈ کی ناکافی تصدیق، معلومات کے محدود تبادلے، اور سفری و سرکاری دستاویزات کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کے پیش نظر کیا جا رہا ہے یہ 20 اگست 2025 کو شروع کیے گئے 12 ماہ کے ویزا بانڈ پائلٹ پروگرام کی توسیع ہے.

(جاری ہے)

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق رواں برس مئی میں امریکی محکمہ خارجہ نے پائلٹ پروگرام کے دوران 50 ممالک کی فہرست جاری کی تھی جن کے شہریوں کو بی ون یا بی ٹو ویزا حاصل کرنے کے لیے ویزا بانڈ جمع کرانے کی شرط کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا اس فہرست میں پاکستان شامل نہیں ہے . امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ مالی سال 2024 میں ان ممالک سے 45,488 افراد نے ویزا کی معیاد سے زیادہ قیام کیا تھا، جبکہ پائلٹ پروگرام کے پہلے دس ماہ میں ایسے افراد کی تعداد 50 سے کم رہی اسی مدت میں ان ممالک کے لیے بی ون یا بی ٹو ویزوں کے اجرا میں 83 فیصد کمی بھی دیکھی گئی امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزا بانڈ ادا کرنے کے بعد ویزا ہولڈر کو امریکہ میں اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھنا اور مقررہ مدت کے اندر ملک چھوڑنا ہو گا.

محکمہ خارجہ کے مطابق اگر ویزا ہولڈر ویزا اور بانڈ کی تمام شرائط پوری کرے تو بانڈ کی رقم واپس کر دی جائے گی تاہم اگر کوئی شخص مقررہ مدت کے بعد امریکہ میں قیام کرے، غیر مجاز طور پر حیثیت تبدیل کرنے کی درخواست دے یا بعض دیگر شرائط کی خلاف ورزی کرے، تو پورا بانڈ ضبط کیا جا سکتا ہے اس منصوبے کا آغاز اگست 2025 میں کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر ملاوی، زیمبیا کو اس فہرست میں رکھا گیا تھا یکم جنوری 2026 سے اس میں مزید ممالک کا اضافہ کیا گیا اور یہ شرط بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساﺅ، نمیبیا اور ترکمانستان پر بھی لاگو کر دی گئی.

بعدازاں ان ممالک کی فہرست میں ملاوی، زیمبیا‘ گیمبیا‘ موریتانیہ، ساو¿ ٹومے اینڈ پرنسپے، تنزانیہ‘ بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساﺅ، نمیبیا، ترکمانستان‘ الجزائر، انگولا، اینٹیگوا اینڈ باربوڈا، بنگلہ دیش، بینن، برونڈی، کیبو وردے، کوٹ ڈی آئیوری، کیوبا، جبوتی، ڈومینیکا، فجی، گیبون، کرغز جمہوریہ، نیپال، نائجیریا، سینیگال، تاجکستان، ٹوگو، ٹونگا، تووالو، یوگنڈا، وانواتو، وینزویلا اور زمبابوے‘ ایتھوپیا، جارجیا، گریناڈا، لیسوتھو، ماریشس، منگولیا، موزمبیق، نکاراگوا، پاپوا نیو گنی، سیشلز اور تیونس کو شامل کیا گیا.

محکمہ خارجہ کے مطابق قونصلر افسران کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ویزا درخواست دہندگان سے اس نوعیت اور مقدار کا بانڈ طلب کریں جو اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے کہ درخواست دہندہ مقررہ وقت پر امریکہ چھوڑ دے پروگرام میں یکسانیت برقرار رکھنے اور مختلف کیسز میں بانڈ کی غیر مستقل شرائط سے بچنے کے لیے بانڈ کے تین درجے مقرر کیے گئے ہیں: 10 ہزار، 15 ہزار اور 20 ہزار امریکی ڈالر امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق عام طور پر قونصلر افسر 15 ہزار ڈالر کا بانڈ مقرر کریں گے تاہم اگر افسر کے خیال میں درخواست دہندہ کی مالی حالت ایسی نہیں کہ وہ 15 ہزار ڈالر کا بانڈ ادا کر سکے، جبکہ امریکہ کے سفر اور قیام کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، تو بانڈ کی رقم 10 ہزار ڈالر رکھی جا سکتی ہے دوسری جانب اگر درخواست دہندہ کے حالات، خصوصاً امریکہ میں اس کے روابط اور دیگر عوامل، یہ ظاہر کریں کہ 15 ہزار ڈالر کا بانڈ بروقت روانگی یقینی بنانے کے لیے کافی نہیں ہو گا تو قونصلر افسر 20 ہزار ڈالر کا بانڈ مقرر کر سکتے ہیں.

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بانڈ جمع کرانے کی شرط عائد ہونے پر درخواست دہندہ کو ویزا درخواست میں فراہم کردہ رابطہ معلومات کے ذریعے تحریری یا الیکٹرانک اطلاع موصول ہوگی، جس میں ویزا بانڈ پروگرام کے ادائیگی پلیٹ فارم کا لنک فراہم کیا جائے گا درخواست دہندہ اسی لنک کے ذریعے محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کا متعلقہ بانڈ فارم بھی جمع کرائے گا بانڈ جمع کرانے والے شخص کو، دستخط کے وقت فراہم کی گئی رابطہ معلومات کی بنیاد پر، فارم کی ایک نقل دی جائے گی بانڈ سے متعلق ڈی ایچ ایس کے فارموں میں درج تمام شرائط و ضوابط قابلِ اطلاق ہوں گے.

محکمہ خارجہ کے مطابق اگر ویزا ہولڈر بانڈ کی شرائط پر خاطر خواہ عمل نہ کرے اور بانڈ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پائے تو بانڈ جمع کرانے والے شخص کو اس بارے میں مطلع کیا جائے گا، خواہ بانڈ خود درخواست دہندہ نے جمع کرایا ہو یا کسی تیسرے فریق نے اس کی جانب سے بانڈ کی خلاف ورزی کے تعین اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کی وضاحت متعلقہ فارموں اور ڈی ایچ ایس کے ضوابط میں کی گئی ہے تاہم محکمہ داخلی سلامتی کے سیکرٹری یہ اختیار پہلے ہی محکمہ خارجہ کے ان اہلکاروں کو تفویض کر چکے ہیں جنہیں وزیر خارجہ نامزد کریں تاکہ وہ ایسے بانڈز کی وصولی اور کارروائی سے متعلق امور انجام دے سکیں.

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکہ میں قانونی قیام کی مدت یا حیثیت کے تعین کا اختیار بدستور محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کے پاس رہے گا، جس میں سرحدی حکام (سی بی پی) اور امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) شامل ہیں ویزا بانڈ پروگرام سے بی ون یا بی ٹو ویزا ہولڈرز کے مجاز قیام کی مدت سے متعلق ڈی ایچ ایس کے اختیارات متاثر نہیں ہوں گے امریکی محکمہ خارجہ بانڈ کے مطابق اگر کوئی ویزا ہولڈر امریکہ کا سفر نہ کرے اور ویزا کی مدت ختم ہونے سے پہلے اپنا بانڈ منسوخ کرانا چاہے تو وہ امریکہ سے باہر موجود قونصلر حکام سے ملاقات کے لیے وقت لے کر بانڈ کی منسوخی کی درخواست کر سکتا ہے قونصلر افسر ایسی درخواست صرف اسی صورت میں منظور کرے گا جب وہ تصدیق کر لے کہ ویزا ہولڈر نے امریکہ کا سفر نہیں کیا یہ تصدیق ہونے کے بعد قونصلر افسر کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ویزا کو باضابطہ طور پر منسوخ کرے، جس کے بعد بانڈ کی منسوخی کا عمل آگے بڑھایا جا سکے گا.