آزاد کشمیر کے انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور شفاف نہیں تھے، سید نیئرحسین بخاری

منگل 4 اگست 2026 22:48

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 04 اگست2026ء) پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل نے سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران طاقت، تشدد اور خوف کی فضا قائم کی گئی، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت بری طرح متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ انتخابات کے دوران قائم مقام صدر آزاد کشمیر اور اسپیکر اسمبلی کو بھی مناسب سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ چوہدری لطیف اکبر کے حلقے میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک کارکن شہید ہوا۔سید نیئر حسین بخاری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انداز میں منعقد نہیں ہوئے، جس کے باعث مسلم لیگ (ن)کی بننے والی حکومت متنازع قرار پائے گی انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ(ن)طاقت کے زور پر حکومت قائم کرتی ہے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کا حل مذاکرات اور جمہوری مکالمے کے ذریعے چاہتی ہے۔سیکریٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان عناصر کی مذمت کرتی ہے جو دوسروں کے آلہ کار بن کر ملک میں نفرت اور تقسیم کو فروغ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ملک کا نظام درست انداز میں کام نہیں کر رہا، انہیں محض تنقید کے بجائے قابلِ عمل حل بھی پیش کرنا چاہیے۔

سید نیئر حسین بخاری نے مزید کہا کہ آئینِ پاکستان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کا اختیار پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبوں کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا جمہوری طریقہ عوامی رائے اور آئینی عمل ہے، اور چند افراد کی خواہشات یا ذاتی مطالبات کی بنیاد پر نئے صوبے نہیں بنائے جا سکتے۔