مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی انتظامیہ نے احتجاجی مظاہرے روکنے کیلئے پابندیاں مزید سخت کر دیں

بدھ 5 اگست 2026 17:02

سری نگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے ’’یوم استحصال کشمیر‘‘ کے موقع پر احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے سخت پابندیاں عائد کر دیں۔بھارتی حکومت نے 5اگست 2019کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی آئین کی 370 اور35اے ختم کر دی تھیں جن کے تحت بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے کے گرمائی دارلحکومت سرینگر، بڈگام ، بارہمولہ ، سوپور ، گاندربل ، بڈگام ، اسلام آباد، کولگام، پلوامہ اور مقبوضہ وادی کشمیر کے دیگر اضلاع کے علاوہ جموں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پیرا ملٹری اہلکار تعینات کیے گئے ۔

(جاری ہے)

سرینگر جموں اور جموں پٹھانکوٹ شاہراہوں پر اضافی چیک پوسٹیں قائم کی گئیں جہاں قابض فورسز اہلکار گاڑیوں ،مسافروں اور راہگیروں کی سخت تلاشی لیتے رہے اور انکی شناخت کی تصدیق کر تے رہے ۔

حکام نے کسی بھی قسم کے احتجاج اور مظاہروں پر مکمل طورپر پابندی عائد کر دی۔ سرکاری عمارتوں کے ارد گرد بھی سکیورٹی کو مضبوط کیا گیا ۔ حساس مقامات کے باہر کوئیک ری ایکشن ٹیمیں بھی تعینات کی گئی تھیں، پولیس اور نیم فوجی دستے کسی بھی عوامی اجتماع کو روکنے کے لیے ہائی الرٹ رہے۔ تجزیہ کاروں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی مقبوضہ علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے کی بھارتی پالیسی کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں فورسز اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ سخت نگرانی اور نقل و حرکت پر پابندیوں نے ایک بار پھر مقبوضہ علاقے میں معمولات زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے اورخوف و ہراس کی فضا کو جنم دیا ۔