8 اگست صوبے کی تاریخ کا المناک اور سیاہ دن ہے، جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن رپورٹ کو محض سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا کر رکھ دینا شہدا کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے، بیان

ہفتہ 8 اگست 2026 23:00

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 اگست2026ء) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں 8 اگست 2016 کے سانحہ کوئٹہ کے شہدا، بالخصوص شہید وکلا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 8 اگست صوبے کی تاریخ کا ایسا المناک اور سیاہ دن ہے جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔جاری بیان میں کہا گیا کہ اس روز کوئٹہ سول ہسپتال میں دہشت گردی کے بدترین واقعے کے نتیجے میں صوبے کی وکلا برادری کے درجنوں قابل، نوجوان اور روشن خیال وکلا سمیت متعدد بے گناہ شہری شہید ہوئے۔

8 اگست کا سانحہ محض وکلا کو نشانہ بنانے کا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ آئین، قانون، انصاف، عدلیہ، جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں پر ایک سنگین حملہ تھا۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ شہید بلال انور کاسی سمیت تمام شہدائے 8 اگست کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔

(جاری ہے)

شہدا کے لواحقین گزشتہ ایک دہائی سے انصاف کے منتظر ہیں، جبکہ قوم آج بھی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ سانحے کے اصل منصوبہ ساز، سہولت کار اور ذمہ دار عناصر کب قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیشن کی رپورٹ سانحہ 8 اگست کے حوالے سے اہم دستاویز ہے، جس میں ریاستی اداروں کی کارکردگی، سکیورٹی انتظامات اور دہشت گردی کے سدباب کے حوالے سے اہم نکات اور سفارشات پیش کی گئی تھیں۔ اس رپورٹ کو محض سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا کر رکھ دینا شہدا کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ریاست کو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے اور کسی ادارے کی غفلت یا کوتاہی کی صورت میں ذمہ داروں کا احتساب بھی ناگزیر ہے۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ شہدا کے لواحقین اور سانحے میں زخمی ہونے والے افراد سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں، صوبے میں دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لیے جامع اور موثر حکمت عملی اختیار کی جائے اور شہریوں، وکلا، سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور دیگر طبقات کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔