لاہور ہائیکورٹ میں پرچم کشائی تقریب،چیف جسٹس نے تاریخی عمارت پر قومی پرچم لہرایا

جمعہ 14 اگست 2026 19:41

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اگست2026ء) لاہور ہائیکورٹ میں80 ویں یومِ آزادی کے سلسلہ میں پرچم کشائی تقریب کا اہتمام کیا گیا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے عدالت عالیہ لاہور کی تاریخی عمارت پر پرچم لہرایا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس سید شہباز علی رضوی، جسٹس چودھری محمد اقبال اور جسٹس طارق سلیم شیخ سمیت دیگر فاضل ججز بھی چیف جسٹس کے ہمراہ تھے۔

پرچم کشائی تقریب میں لاہور ہائیکورٹ کے افسران و سٹاف اور ان کی فیملیز نے بھی شرکت کی۔پرچم کشائی تقریب سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمارے لئے باعثِ مسرت ہے کہ ہم آج اپنا 80 واں یومِ آزادی منا رہے ہیں، ہمیں یہ آزادی قائداعظم محمد علی جناح اور ہمارے بزرگوں کی شب و روز کوششوں سے میسر آئی، ہمیں آج کے دن عہد کرنا ہے کہ ہمیں قائد کے ویژن کے مطابق کام کرنا ہے اور اس ملک و قوم کو پہلے سے زیادہ سربلند اور پروقار بنانا ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پنجاب کی عدلیہ قائدِ اعظم کے ویژن کے مطابق بہترین انداز میں انصاف کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے، آ ج کا دن ہمیں ان امیدیوں اور امنگوں کی یاددہانی بھی کراتا ہے جن کے لئے پاکستان معرضِ وجود میں آیا، ان خواہشات کے احترام کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انصاف کو زیادہ قابلِ رسائی، زیادہ موثر اور عوام کے لئے زیادہ جوابدہ بنایا جائے، اسی مقصد کے تحت ہماری مسلسل کوشش ہے کہ انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید موثر اور تیز بنایا جائے۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ کیس مینجمنٹ کے تحت مختلف مقدمات کی درجہ بندی کی گئی جس کے مثبت نتائج ناصرف ڈسٹرکٹ جوڈیشری بلکہ لاہورہائی کورٹ کی سطح پر بھی سامنے آئے۔ 2025 میں لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کئے گئے، اسی طرح پنجاب کی ضلعی عدلیہ میں بھی گزشتہ دو سالوں میں 80 لاکھ سے زائد مقدمات کے فیصلے کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بیشک اتنی بڑی تعداد میں زیرالتوا مقدمات کو نمٹانا ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج تھا لیکن ہمارے ججز اور سٹاف نے دن رات محنت کی اور جلدو معیاری انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کیا۔ چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ صوبہ بھر میں قائم ماڈل کورٹس بھی بہترین انداز میں کام کررہی ہیں جن کے موثر کردار کے نتیجے میں پنجاب کے 40 فیصد اضلاع میں 2023 سے قبل کے سول و فوجداری مقدمات سیشن لیول پر ختم ہو چکے ہیں اور یہ امر بھی باعث اطمینان ہے کہ آنے والے کچھ عرصہ تک باقی اضلاع میں بھی 2023 تک کے تمام زیر التوا مقدمات کا فیصلہ کردیا جائے گا۔

کیس مینجمنٹ سسٹم اور دیگر آئی ٹی سسٹمز کی بدولت وکلا و سائلین کے لئے باسہولت انصاف کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جارہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آج یوم آزادی کے موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح کے تین رہنما اصولوں ایمان، اتحاد اور تنظیم کا نہ صرف تجدید عہد کرنا ہے، بلکہ ان پر عمل کرنے سے ہی انصاف کا حصول ممکن ہوگا۔چیف جسٹس نے اس عہد کا بھی اظہار کیا کہ ہم آئین پاکستان کے مطابق اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے پوری کرتے رہیں گے اور اس کے لئے اپنی تمام تر صلا حیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لائیں گے ، اس ملک و قوم کی سربلندی میں اپنا بہترین کردار ادا کرتے رہیں گے، پاکستان ترقی کی منازل طے کرتا ہوا تاقیامت قائم و دائم رہے گا۔

پرچم کشائی تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی و ترقی کے لئے دعا بھی کی گئی۔