تحریک خلافت نے برصغیر میں آزادی کا جذبہ بیدار کیا، ذاکر حسین

مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں تحریک خلافت نے برصغیر اور مسلم دنیا میں استعمار مخالف شعور اجاگر کیا، محفوظ النبی خان، ڈاکٹر معیز خان

اتوار 16 اگست 2026 17:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اگست2026ء) جامعہ کراچی کے شعبہ تاریخ اور قائد ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی کے اشتراک سے جامعہ کراچی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلے میں کلیہ فنون میں تحریک خلافت کے موضوع پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممتاز اسکالر اور سماجی رہنما ذاکر حسین نے برصغیر کی تاریخ ساز تحریک خلافت سے متعلق ایک ضخیم تاریخی دستاویز شعبہ تاریخ کے سربراہ ڈاکٹر معیز خان کو بطور تحفہ پیش کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ذاکر حسین نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں چلنے والی تحریک خلافت کے نتیجے میں برصغیر سمیت پوری مسلم دنیا میں استعمار سے آزادی کا جذبہ بیدار ہوا۔ اس تحریک نے مسلمانوں میں سیاسی شعور اور آزادی کی جدوجہد کو تقویت دی، جس کے اثرات بعد ازاں برصغیر میں مسلمانوں کی سیاسی تحریک اور قیام پاکستان کی جدوجہد پر بھی مرتب ہوئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تحریک خلافت محض ایک مذہبی یا سیاسی تحریک نہیں تھی بلکہ اس نے برصغیر کے مسلمانوں کو عالمی سیاسی حالات سے جوڑنے اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف اجتماعی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ذاکر حسین نے تاریخی تناظر میں کہا کہ اگر سلطنت عثمانیہ کے آخری حکمران جرمنی کے تعاون سے مشرق وسطیٰ کو ریلوے کے ذریعے باہم مربوط کرنے کے منصوبے میں کامیاب ہوجاتے تو عالمی سطح پر سامراجی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کا عمل شاید بہت پہلے شروع ہوجاتا۔

صدر قائد ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی محفوظ النبی خان نے کہا کہ تحریک خلافت نے برصغیر سمیت عالمی تاریخ پر گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان کے مطابق ترکی کا ریاستی اور جغرافیائی وجود بھی تحریک خلافت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی سیاسی صورت حال سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔شعبہ تاریخ جامعہ کراچی کے سربراہ ڈاکٹر معیز خان نے اپنے اختتامی کلمات میں تحریک خلافت کا تاریخی تناظر میں جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی کا شعبہ تاریخ ماضی کے اہم واقعات اور حالات کو درست تاریخی پس منظر میں سمجھنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے علمی و تحقیقی خدمات انجام دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذاکر حسین کی جانب سے تحریک خلافت سے متعلق فراہم کیا جانے والا تاریخی ریکارڈ شعبہ تاریخ کے لیے قیمتی علمی اثاثہ ہے، جس سے مستقبل میں تحقیق کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے شعبہ تاریخ سے وابستہ ممتاز تاریخ دانوں ڈاکٹر ریاض الاسلام، ڈاکٹر محمود حسین اور ڈاکٹر امیر حسن صدیقی کی علمی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ڈاکٹر معیز خان نے کراچی یونیورسٹی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے انعقاد میں سول سوسائٹی کے تعاون کو قابل تحسین قرار دیا۔

تقریب میں پروفیسر نسرین افضل، ڈاکٹر حنا خان، مرحوم اسلم جناح کی اہلیہ منور سلطانہ، صاحبزادی زینب، سماجی رہنما اسلم فاروقی، ماسٹر زاہد حسین، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور دیگر معززین نے شرکت کی۔ طالب علم عدیل اور ان کے ساتھیوں نے تقریب کے انتظامات انجام دیے۔