بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی جانب سے نائب صدور کے انتخابی عمل سے متعلق من گھڑت حقائق پر مبنی خبر کے حوالے سے وضاحت

منگل 18 اگست 2026 17:21

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اگست2026ء) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے یونیورسٹی کے نائب صدور کے انتخاب اور تقرر کے عمل کے حوالے سے بعض ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے۔ یونیورسٹی حقائق کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتی ہے کیونکہ ان خبروں میں کئے گئے بعض دعوے یونیورسٹی کے مقررہ طریقہ کار اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری کارروائی دونوں کی نامکمل اور توڑ موڑ کر پیش کی گئی تصویر پیش کرتے ہیں۔

یونیورسٹی واضح کرتی ہے کہ انتخاب کا سارا عمل آئی آئی یو آئی آرڈیننس 1985 کی قابلِ اطلاق شقوں اور مقررہ طریقہ کار کے عین مطابق، شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں مکمل کیا گیا، جس کی منظوری بااختیار فورم یعنی بورڈ آف گورنرز نے باقاعدہ طور پر دی۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے زیرِ بحث تقرریوں کے حوالے سے یونیورسٹی کے خلاف کوئی منفی حکم یا نتائج جاری نہیں کئے گئے اور تاحال یونیورسٹی کو باضابطہ نوٹس بھی موصول نہیں ہوا۔

سماعت کی پہلی تاریخ پر نوٹس کا اجرا یا کسی وضاحت کی طلبی عام عدالتی کارروائی کا حصہ ہوتی ہے، تاہم اسے یونیورسٹی کے سابق لیگل ایڈوائزر، جنہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کی آئینی درخواست نمبر 7 برائے 2024 میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے یونیورسٹی اور اس کی انتظامیہ کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سازش کے تحت غیر منصفانہ طور پر غیر قانونی اقدام یا ضابطہ جاتی بے ضابطگی کے عدالتی فیصلے کے طور پر پیش کیا گیا، جیسا کہ مختلف خبروں میں سامنے آیا ہے۔

موصوف یونیورسٹی سے برطرفی کے بعد مسلسل پس پردہ رہتے ہوئے ادارے کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔یہ اہم پس منظر زیرِ گردش خبروں میں مناسب طور پر پیش نہیں کیا گیا اور اصل خبر کی اشاعت سے قبل یونیورسٹی کے سرکاری ترجمان سے تصدیق، وضاحت یا یونیورسٹی کا مؤقف حاصل کرنے کے لئے رابطہ تک نہیں کیا گیا جو صحافت کے بنیادی اصولوں یعنی درستی، توازن اور ذمہ داری کے منافی ہے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد شفافیت اور ادارہ جاتی دیانت پر بدستور کاربند ہے اور اسے قانونی عمل پر مکمل اعتماد ہے۔ ساتھ ہی یونیورسٹی ذاتی مفادات کی خاطر پورے ادارے کو بدنام کرنے والے ذمہ دار عناصر کے خلاف ہتکِ عزت کے قوانین کے تحت حاصل حقوق، ہرجانے اور دیگر اقدامات سمیت اپنے تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتی ہے۔