عمران خان کی ہسپتال منتقلی ،بہن سے ملاقات کا فیصلہ خوش آئند ،عدلیہ کا کھویا وقار بحال ہوگا‘ سعد رفیق

بانی پی ٹی آئی کی صحت ،زندگی انتہائی اہم ،ان کی جماعت ،ا ہل خانہ کو آئندہ محتاط اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے کوئی بھی شخص اتنا طویل عرصہ قید تنہائی میں رکھا جائے گا تو اسکی صحت متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی‘ سینئر رہنما (ن) لیگ

منگل 18 اگست 2026 20:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اگست2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور ان بہن اور ڈاکٹر وں کی ان سے ملاقات کے عدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عدلیہ کا کھویا ہوا وقار بحال ہوگا، سچ یہ ہے کہ اس فیصلے سے میرے دل کا بوجھ کچھ کم ہوا ہے ،برسات کی حبس زدہ رُت میں یہ فیصلہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اس فیصلے پر معزز جج صاحبان مبارکباد کے مستحق ہیں ، اگر اس میں ریاستی منشا ء شامل ہے تو اسے بھی سراہاجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور زندگی انتہائی اہم ہیںاس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ، ان کی جماعت اور ا ہل خانہ کو بھی اس حوالے سے آئندہ محتاط اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے ،ان کا ذمہ دارانہ رویہ اگلے راستے کھلنے کی صورت متعین کرسکتا ہے۔

(جاری ہے)

سعد رفیق نے کہا کہ ہم پہلے بھی عمران خان صاحب کے اہل خانہ کی ملاقاتوں پر پابندی کے خاتمے اور ان کی مرضی کے ڈاکٹرز تک ان کی رسائی کے حق میں آواز بلند کرتے رہے ہیںہماری اطلاعات کے مطابق حکومت نے ان کے علاج کیلئے ماہر ڈاکٹرز مامور کیے رکھے ہیںاور علاج معالجہ میں اپنے تئیں کوئی کمی نہیں کی لیکن جیلیں بھگتنے والے جانتے ہیںکہ کوئی بھی شخص اتنا طویل عرصہ قید تنہائی میں رکھا جائے گا تو اس کی صحت متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ،جیل اپنے قیدی کو کسی نہ کسی بیماری کا تحفہ ضرور دیتی ہے ، یہ آپ بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی ۔

سعد رفیق نے کہا کہ اگر قیدی آپ کا سیاسی مخالف ہو تو اس کی حفاظت اور حقوق کی ادائیگی اشد ضروری ہو جاتی ہے۔بہتر ہوتا کہ حکومت یہ فیصلہ خود کرتی بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اب فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور عمران خان کیلئے آسانی کا معاملہ پیدا ہونے دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد ، اعجاز چوہدری ، عمر چیمہ ، میاں محمود الرشید سمیت پی ٹی آئی کے باقی اسیران بھی ایسی توجہ کے حقدار ہیں،اس موقع پر طعنہ زنی ، گالی گلوچ اور ان کے دور ِ اقتدار کی سختیاں یاد کرنے یا دہرانے کی قطعاًکوئی ضرورت نہیں ۔