پنچائت اورمصالحت ہمارے دینی و سماجی ورثے کا حصہ ہیں، اعظم نذیر تارڑ

جمعہ 21 اگست 2026 17:56

پنچائت اورمصالحت ہمارے دینی و سماجی ورثے کا حصہ ہیں، اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اگست2026ء) وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پنچائت اور مصالحت ہمارے دینی و سماجی ورثے کا حصہ ہیں، علما کرام مصالحتی نظام کے فروغ میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں، حکومت ایسے قوانین متعارف کرا رہی ہے جن کے تحت تنازعات عدالتوں تک پہنچنے سے قبل ہی حل کیے جا سکیں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار سول، کمرشل اور شریعہ سے ہم آہنگ ثالثی کے پانچ روزہ تربیتی پروگرام کے دورے کے موقع پر کیا۔ تربیتی پروگرام انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی میک)اور او آئی سی آربیٹریشن سینٹر کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں علما کرام کو سول، کمرشل اور شریعہ سے ہم آہنگ ثالثی کے مختلف پہلوئوں سے متعلق تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے اور مصالحتی نظام تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی قانونی فریم ورک میں مصالحت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصالحت کی بنیاد ہمارے دین میں موجود ہے، علما کرام اسے نیکی کے طور پر آگے بڑھائیں۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بعض معاملات میں مقدمہ دائر کرنے سے قبل مصالحت کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے، ٹیکس تنازعات میں متعلقہ سرکاری ادارے عدالت جانے سے پہلے باہمی مصالحت کر رہے ہیں اور ٹیکس سے متعلق کئی تنازعات عدالتوں سے باہر حل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصالحتی نظام کے ذریعے کئی سالوں کا کام چند ہفتوں میں مکمل ہونے لگا ہے جبکہ ثالثی کے موثر نظام سے عدالتی نظام پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے،مصالحتی نظام تنازعات کے تیز رفتار، موثر اور کم لاگت حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عدالت جانے سے قبل مصالحت کو موثر بنانے کیلئے مزید قوانین لائے جا رہے ہیں، پاکستان میں ثالثی کے موثر نظام کے فروغ کے لیے بین الاقوامی شراکت داری اہم ہے اور او آئی سی آربیٹریشن سینٹر کے تعاون سے تربیتی پروگرام عالمی بہترین طریقہ کار سے استفادہ کا اہم ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی کے شعبے میں عالمی معیار کی مہارتیں پیدا کرنا پاکستان کے قانونی نظام کے لیے اہم ہے، حکومت پاکستان تنازعات کے متبادل حل کے موثر نظام کے فروغ کے لیے اپنی معاونت جاری رکھے گی۔