نئے انتظامی یونٹس ملک کی ضرورت، موجودہ نظام مفلوج ہوچکا، مصطفی کمال

ہفتہ 22 اگست 2026 15:58

نئے انتظامی یونٹس ملک کی ضرورت، موجودہ نظام مفلوج ہوچکا، مصطفی کمال
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اگست2026ء) وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ملک کا موجودہ انتظامی نظام مفلوج ہوچکا ہے، 26 کروڑ آبادی کے پاکستان کے لیے صرف چار صوبے ناکافی ہیں، ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت ہے، صوبے بنانے کی بات کفر نہیں بلکہ آئین میں اس کا طریقہ موجود ہے، انتظامی یونٹس کے قیام کا مقصد کسی صوبے یا علاقے کی تقسیم نہیں بلکہ عوام کو بہتر حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔

کراچی ایئرپورٹ پر مرکزی سرکاری ڈسپنسری کے توسیعی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی سمیت پورا سندھ انتظامی اور حکمرانی کے مسائل سے دوچار ہے، ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی ناگزیر ہوچکی ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے سے خاندان تقسیم نہیں ہوتا بلکہ انتظام بہتر ہوتا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب گھر میں صرف میاں بیوی ہوں تو محدود جگہ میں گزارا ہوجاتا ہے، تاہم اولاد کی شادیاں ہونے اور خاندان بڑھنے کے بعد گھر کو وسعت دینا پڑتی ہے، اسی طرح انتظامی یونٹس میں اضافے کا مقصد ملک کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کے مطابق انتظامی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ سندھ کا نام ایک ہی رکھنے سے انتظامی مسائل حل نہیں ہوں گے، اصل ضرورت بہتر حکمرانی اور مؤثر انتظامی ڈھانچے کی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کررہے بلکہ انتظامی اصلاحات کے ذریعے عوام کے مسائل کم کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔مصطفی کمال نے کہا کہ گزشتہ 18 برس کے دوران وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کو 42 ہزار ارب روپے دیے گئے، تاہم اس کے باوجود کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کے مسائل موجود ہیں۔ اگر اتنے وسائل خرچ ہونے کے باوجود عوام کو پانی، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں تو نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کو ماضی میں محدود وسائل کے ساتھ بھی ایک مثالی شہر بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم موجودہ انتظامی نظام کی کمزوریوں کے باعث شہری مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول وسائل کی فراہمی کے ساتھ مؤثر انتظامی ڈھانچہ بھی ضروری ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولیات کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔مصطفی کمال نے شہری سندھ میں سرکاری ملازمتوں کے معاملے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جعلی ڈومیسائل بنا کر شہری سندھ کے کوٹے پر قبضہ کیا جاتا ہے، جبکہ مقامی نوجوانوں کو ان کا حق نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو میرٹ اور قانون کے مطابق ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں محرومی اور بے اعتمادی کا احساس ختم کیا جاسکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 1973 کے آئین میں متعدد ترامیم ہوچکی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نظام میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں صوبوں کے قیام کا طریقہ موجود ہے، اس لیے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے بات کرنا کوئی غیر آئینی یا ناقابلِ بحث معاملہ نہیں، اصل اہمیت آئینی طریقہ کار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 70 سال سے موجود نظام نوجوانوں کو مختلف حوالوں سے غدار قرار دیتا رہا ہے، حالات سے تنگ آکر بعض لوگ ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں پر جا بیٹھے، ایسا نظام ہونا چاہیے جو نوجوانوں کو مواقع دے اور انہیں ریاست کے ساتھ جوڑے۔وفاقی وزیر صحت نے سندھ میں صحت اور پینے کے صاف پانی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 80 فیصد آبادی کو صاف پانی میسر نہیں، جبکہ ملک میں 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی سے پیدا ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے ایک کروڑ 10 لاکھ مریض ہیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کی اسکریننگ تک نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ہر سال دورانِ زچگی تقریباً 11 ہزار مائیں انتقال کرجاتی ہیں، سالانہ 4 لاکھ بچوں کی اموات ہوتی ہیں، ہر تیسرا شخص شوگر کا مریض ہے جبکہ پاکستان اب بھی پولیو زدہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ ہے، کچی آبادیوں سے لے کر کلفٹن اور ڈیفنس تک شہری پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں، دوسری جانب بعض وزرا اور افسران کے لیے ٹینکرز چلتے ہیں، ایسی صورتحال عوام میں بددلی پیدا کرتی ہے۔

تقریب کے دوران وفاقی وزیر صحت نے کراچی ایئرپورٹ پر قائم مرکزی سرکاری ڈسپنسری کے توسیعی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسپنسری کو 40 بستروں پر مشتمل ثانوی اسپتال میں تبدیل کیا جائے گا، منصوبے پر 66 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اسے چار ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔مصطفی کمال کے مطابق نئے اسپتال میں 24 گھنٹے ایمرجنسی سروس سمیت مختلف طبی سہولیات دستیاب ہوں گی اور شہریوں و سرکاری ملازمین کو ایکسرے سمیت دیگر طبی خدمات کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے ڈسپنسریوں کی توسیع اور صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے مختلف منصوبوں کے لیے 2 ارب 86 کروڑ روپے کے فنڈز حاصل کیے گئے ہیں۔ اسپتال کے انتظامی امور میں نجی شعبے کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے تاکہ طبی سہولیات کا معیار بہتر بنایا جاسکے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ سرکاری املاک کو قبضوں سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے، اگر کسی سرکاری جگہ کی حفاظت اور مؤثر استعمال نہ ہو تو وقت گزرنے کے ساتھ اس کی شناخت بھی ختم ہوسکتی ہے۔

کراچی ایئرپورٹ کی ڈسپنسری کو ثانوی اسپتال میں تبدیل کرنے سے یہ طبی سہولت آئندہ کئی برس تک عوام کے لیے دستیاب رہے گی۔مصطفی کمال نے کہا کہ ان کی تجاویز کا مقصد سندھ کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انتظامی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ ’’سندھ میں میرے ماں باپ دفن ہیں اور میں نے بھی اسی دھرتی میں دفن ہونا ہے، ہمیں اس دھرتی کا احساس ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کا مقصد کسی علاقے کے حقوق سلب کرنا نہیں بلکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دینا اور صحت، پانی، تعلیم سمیت بنیادی مسائل حل کرنا ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے امید ظاہر کی کہ اگر ملک میں انتظامی اور حکمرانی کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے اور عوامی ضروریات کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں بہتری لائی جائے تو پاکستان بالخصوص سندھ کے عوام کو بہتر سہولیات اور خوش حالی میسر آسکتی ہے۔