صنعت زار میں 22ویں سالانہ جائزہ حسن نعت شریف کا انعقاد،طالبات نےعقیدت کے پھول نچھاور کیے

پیر 24 اگست 2026 16:23

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اگست2026ء) ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن اور صنعت زار سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال ملتان کے زیر اہتمام جشن میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں جاری ہفت روزہ تقریبات کے تیسرے روز ادارے کی طالبات کے درمیان 22ویں سالانہ جائزہ حسن نعت شریف کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب صنعت زار کے آڈیٹوریم میں ہوئی جس کی صدارت ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشنز سیکنڈری ایجوکیشن جنوبی پنجاب مسز زاہدہ بتول نے کی۔

تقریب میں چیئرپرسن شعبہ عربی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر عذرا افضل، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لٹریسی مظفرگڑھ ڈاکٹر طاہرہ رفیق، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال ملتان عبدالعزیز خان، ایگزیکٹو ممبر اپوا ملتان مسز طاہرہ نجم، پرنسپل گورنمنٹ مسلم گرلز ہائی سکول مسز فرزانہ بخاری، معروف مذہبی سکالر پروفیسر عبدالمجید وٹو، ماہر تعلیم ڈاکٹر ریاض حسین اور صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ نعت رسول مقبول ﷺ عشق رسول ﷺ کے اظہار کا خوبصورت ذریعہ ہے، جبکہ نوجوان نسل کو سیرت طیبہ، اخلاق نبوی ﷺ اور تعلیمات مصطفیٰ ﷺ سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تقریب میں صنعت زار کی طالبات نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

ان کی پرسوز آواز، خوبصورت اندازِ بیان اورعشق رسول ﷺ سے بھرپور نعتیہ کلام نے محفل کو روحانی کیفیت سے سرشار کر دیا۔جائزہ حسن نعت شریف میں منصف کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر عذرا افضل نے انجام دیے۔ انہوں نے نعت خوانی کے معیار، تلفظ، ادائیگی، آواز اور اندازِ پیشکش کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ مقابلے میں مصباح ارم نے پہلی، مریم نعیم نے دوسری جبکہ حفضہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

دیگر شرکاء اقراء نور، عائشہ ارشد، طیبہ، ثانیہ رفیق، ام فروہ، حلیمہ اور ایمن میں بھی ٹرافیاں، انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں۔صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم ہرسال جشن میلاد النبی ﷺ کے موقع پر تعلیمی و روحانی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہے تاکہ نوجوان نسل میں عشق رسول ﷺ، اسلامی اقدار اور سیرت طیبہ سے وابستگی کو فروغ دیا جا سکے۔