قیمتی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں، کوئلہ کانوں میں شہید شانگلہ کے نوجوان قیمتی اثاثہ ہیں، عباداللہ

کوئلہ کانوں میں کام کرنیوالے شانگلہ کے نوجوانوں کو مقامی سطح پر روزگار فراہم کرنے کیلئے انجینئر امیر مقام اور میں ذاتی کوششیں کر رہے ، اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی

پیر 24 اگست 2026 20:50

شانگلہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اگست2026ء) خیبرپختونخوا اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما ڈاکٹر عباداللہ نے کہا ہے کہ کوئلہ کانوں میں شہید ہونے والے شانگلہ کے نوجوانوں کی قیمتی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں، یہ نوجوان شانگلہ کے مستقبل کے قیمتی اثاثے ہیں، بدقسمتی سے ضلع میں روزگار کے مناسب مواقع نہ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان اپنے گھر بار چھوڑ کر ملک کے مختلف علاقوں کی کوئلہ کانوں میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جہاں آئے روز حادثات کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ضلع ہیڈکوارٹر الپوری کے جرگہ ہال میں منعقدہ کوئلہ کان حادثے کے شہدا کے لواحقین میں امدادی چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

تقریب میں مسلم لیگ (ن)ضلع شانگلہ کے ضلعی رہنماں، عہدیداروں اور کارکنوں کے علاوہ کوئلہ کان حادثات میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران شہدا کے ایصال ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے اجتماعی دعا بھی کی گئی۔

ڈاکٹر عباداللہ نے کہا کہ شانگلہ ایک پسماندہ اور پہاڑی ضلع ہے جہاں روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔ روزگار کے مناسب ذرائع موجود نہ ہونے کی وجہ سے شانگلہ کے ہزاروں نوجوان اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے ملک کے مختلف علاقوں، بالخصوص کوئلہ کانوں کا رخ کرتے ہیں، یہ نوجوان اپنے گھر والوں کے لیے رزق حلال کمانے کی خاطر انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے کانوں میں رونما ہونے والے حادثات کئی خاندانوں کے چراغ گل کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شانگلہ کے نوجوان محنتی، باصلاحیت اور اپنے خاندانوں کا سہارا ہونے کے ساتھ ساتھ پورے ضلع کا مستقبل اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی شہادت سے صرف ایک خاندان متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا معاشرہ اپنے ایک قیمتی فرد سے محروم ہوجاتا ہے۔ کسی بھی مالی امداد سے ان قیمتی جانوں کا نعم البدل ممکن نہیں، اس لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ نوجوانوں کو ان کے اپنے ضلع میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

ڈاکٹر عباداللہ نے کہا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے شانگلہ کے نوجوانوں کو مقامی سطح پر روزگار فراہم کرنے کے لیے انجینئر امیر مقام اور وہ ذاتی طور پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ شانگلہ میں ہی ایسے مناسب، باعزت، محفوظ اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو اپنے خاندانوں سے دور جاکر خطرناک کوئلہ کانوں میں کام کرنے کی مجبوری نہ رہے اور انہیں اپنی ہی دہلیز پر روزگار میسر آسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے مقامی سطح پر مختلف شعبوں میں روزگار، فنی تربیت، ہنرمندی، چھوٹے کاروبار اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر شانگلہ کے نوجوانوں کو اپنے ضلع میں مناسب روزگار میسر ہو تو نہ صرف ان کے خاندان معاشی طور پر مستحکم ہوں گے بلکہ کوئلہ کانوں میں ہونے والے حادثات کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع میں بھی کمی لائی جاسکے گی۔

ڈاکٹر عباداللہ نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ کان کنوں کو حفاظتی سامان، جدید سہولیات اور محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ روزگار اپنی جگہ اہم ہے لیکن کسی انسان کی جان سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی کوئلہ کان حادثات میں شہید ہونے والے تمام افراد کے درجات بلند فرمائے، انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

ہم چاہتے ہیں کہ شہدا کے خاندان اس عظیم صدمے سے جلد از جلد نکلیں اور ان کے بچوں اور اہل خانہ کا مستقبل محفوظ بنایا جائے۔تقریب میں وفاقی حکومت کی جانب سے کوئلہ کان حادثے کے شہدا کے لواحقین میں 20،20 لاکھ روپے فی کس کے امدادی چیکس تقسیم کیے گئے۔ اس سے قبل شہدا کے لواحقین میں 12،12 لاکھ روپے فی کس بھی تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر 32 لاکھ روپے فی شہید امداد کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی ادائیگی کا عمل جاری ہے۔

ڈاکٹر عباداللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن)کی قیادت کی جانب سے شہدا کے خاندانوں کی مالی معاونت مشکل کی اس گھڑی میں عملی یکجہتی کا مظہر ہے، تاہم حکومت کی ذمہ داری صرف امدادی چیکس تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ شانگلہ کے نوجوانوں کے لیے مستقل اور مقامی روزگار کے ذرائع پیدا کرنا بھی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ شانگلہ کے نوجوانوں کو روزگار کے لیے اپنے گھر سے دور خطرناک کانوں میں جانے کے بجائے اگر اپنے ہی ضلع میں باعزت روزگار ملے تو یہ نہ صرف ان خاندانوں کے لیے خوشحالی کا ذریعہ ہوگا بلکہ پورے شانگلہ کے معاشی مستقبل کو تبدیل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔