پائیدار غذائی تحفظ عالمی امن کے بغیر ممکن نہیں، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مؤقف

بدھ 26 اگست 2026 09:52

اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 اگست2026ء) پاکستان نے کہا ہے کہ عالمی امن کے بغیر پائیدار غذائی تحفظ ممکن نہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو عالمی اور مقامی غذائی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے تنازعات کی روک تھام اور حل میں اپنا کردار مؤثر طور پر ادا کرنا ہوگا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تنازعات حل نہیں ہوتے، انسانی ضروریات میں اضافہ اور غذائی عدم تحفظ مزید گہرا ہوتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق سفارت کاری، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے ذریعے جنگوں کی روک تھام اور خاتمہ ضروری ہے۔

(جاری ہے)

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

غزہ میں خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی فراہمی روکنے، انسانی امداد محدود کرنے اور شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے فلسطینی عوام کو ناقابل برداشت مشکلات سے دوچار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یوکرین، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان، ہیٹی اور دیگر تنازعات کے اثرات نے بھی خوراک کے نظام اور عوام کے روزگار کو شدید متاثر کیا ہے۔ یوکرین تنازع کے باعث بحیرہ اسود سے اناج کی برآمدات، کھاد کی فراہمی اور سمندری نقل و حمل متاثر ہوئی جبکہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے توانائی، کھاد اور شپنگ مارکیٹوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے بین الاقوامی انسانی قانون پر مکمل اور بلاامتیاز عملدرآمد، انسانی امداد کی محفوظ اور بلا رکاوٹ فراہمی اور ممکنہ بحرانوں کے بروقت انتباہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانی امداد سیاسی حل کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار غذائی تحفظ کے لیے تنازعات کا سیاسی اور سفارتی حل ناگزیر ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے بھی کہا کہ غذائی عدم تحفظ کے خلاف بہترین تحفظ امن ہے اور سلامتی کونسل کو تنازعات کی روک تھام اور خاتمے کے لیے تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لانے چاہئیں۔