اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 اگست 2026ء) امریکہ کی ثالثی میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اردن میں شامی اور اسرائیلی نمائندوں کے درمیان کئی ماہ بعد پہلی بار ملاقات ہوئی۔ ان مذاکرات کا مقصد حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا اور اسرائیل اور ترکی کے درمیان تنازعے کو شام تک پھیلنے سے روکنا تھا۔
کشیدگی میں اضافہ 18 اگست کو شامی صوبے ادلب میں واقع ابو الظہور فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد ہوا۔
شامی ذرائع کے مطابق اس حملے میں رن وے اور ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اسرائیل
کا مؤقف ہے کہ شام نے ایک سکیورٹی ایگریمنٹ کی خلاف ورزی کی یا اس کی خلاف ورزی کا خدشہ پیدا کیا، کیونکہ اس نے ترک فوج کو اس ہوائی اڈے کے استعمال کی اجازت دی تھی۔(جاری ہے)
تاہم شام اور ترکی دونوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔
امریکہ
نے اپنے اتحادی ملک اسرائیل کے اس حملے کو ''غیر ضروری اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ سفارتی زبان میں اسے انقرہ اور دمشق کے حق میں ایک واضح سیاسی حمایت تصور کیا جا رہا ہے۔اسرائیل
شام میں ترک فوجی موجودگی کے امکان کو اپنی سلامتی کے لیے ایک ریڈ لائن سمجھتا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا ترکی طویل المدتی بنیادوں پر شام میں فوج تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا حملے کے وقت ایسی کوئی تعیناتی کی جانے والی تھی۔ اس حوالے سے عوامی سطح پر کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔تاہم اپریل سن 2025 میں خبر رساں ادارے روئٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذریعہ کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ترکی شام کے کم از کم تین فضائی اڈوں کا جائزہ لے چکا ہے، جہاں وہ ایک مجوزہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنی فوج تعینات کرنے پر غور کر رہا تھا۔ اس وقت بھی اسرائیلی فضائی حملے جاری تھے۔
واشنگٹن
کے تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (FDD) نے اسرائیلی حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ''اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ترکی مستقبل میں شام میں اپنی فوجی موجودگی کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنے یا اسے دھمکانے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔‘‘اسرائیل
کے حامی اداروں میں شمار کیے جانے والے اس تھنک ٹینک کے مطابق، ''اسرائیل شامی صدر احمد الشرع اور ترک قیادت کے درمیان قریبی تعلقات کے حوالے سے بھی محتاط ہے۔‘‘شام، ترکی اور اسرائیل: مستقبل کے نظام پر اختلاف
جرمن
گرین پارٹی سے وابستہ ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن میں شام کے امور کی ماہر بینتے شیلر کا کہنا ہے، ''اب تک کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ترک فوجی واقعی وہاں (شام میں) تعینات کیے جانے والے ہیں۔‘‘ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل کے پاس اپنی خفیہ معلومات ہو سکتی ہیں تاہم حالیہ اس حملے کو شام کے حوالے سے اسرائیل کی مجموعی پالیسی اور خطے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے کردار کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔
جرمنی
کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) سے وابستہ فریڈرش ایبرٹ فاؤنڈیشن کے مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار مارکس شنائیڈر بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شام اور اس سے باہر بھی طاقت اور اثر و رسوخ کی ایک کشمکش جاری ہے۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ حملہ بنیادی طور پر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ مستقبل میں شام میں کس نوعیت کا عسکری نظام قائم ہو گا۔
‘‘ ان کے خیال میں اسرائیل شام کو کمزور رکھنا چاہتا ہے کیونکہ ایک خودمختار ریاست، جو اپنی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول رکھتی ہو، اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی آزادی کو محدود کر سکتی ہے۔شنائیڈر کے بقول، ''ایران کے خلاف حملوں کا راستہ شام سے گزرتا ہے۔‘‘ اس لیے ایک مضبوط اور خودمختار شام اسرائیل کے لیے ایک اہم اسٹریٹیجک رکاوٹ بن سکتا ہے۔
شیلر کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد اسرائیل کے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات قابل فہم ہیں۔ تاہم اسرائیل ایک اور علاقائی پیش رفت پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جو شام سے آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا، ''اسرائیل یقیناً اس بات سے آگاہ ہے کہ ترکی اس وقت خود کو ایک علاقائی بالادست قوت کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔
‘‘ ان کے مطابق ابو الظہور فضائی اڈے پر حملہ ترکی کے لیے بھی ایک ''واضح پیغام‘‘ تھا۔ترکی
شامی صدر احمد الشرع کی حمایت کرتا ہے اور ایک متحد شام کا حامی ہے، جس میں ملک کے شمال مشرقی علاقے بھی شامل ہوں، جہاں شامی کرد آبادی کی اکثریت رہتی ہے۔امریکی
تھنک ٹینک کارنیگی فاؤنڈیشن کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق شام میں صورت حال اسرائیل اور ترکی کے درمیان ایک اسٹریٹیجک کشمکش کی عکاس ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام کا شمال مشرقی علاقہ وہ اہم میدان ہے، جہاں شام کے مستقبل کے بارے میں دونوں ممالک کے اسٹریٹیجک نظریات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔اسی طرح انٹرنیشنل کرائسس گروپ بھی شام کو ترکی اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی علاقائی رقابت کا ایک اہم محاذ قرار دیتا ہے، جہاں ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت اور ایک مضبوط علاقائی کھلاڑی کے مفادات آمنے سامنے ہیں۔
امریکہ کے ساتھ شام کے بہتر ہوتے تعلقات
امریکہ
کے ساتھ شام کے بہتر ہوتے تعلقات ملک کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال اس حقیقت کے باوجود ہے کہ شام کے نئے صدر احمد الشرع ماضی میں اسلام پسند حلقوں سے وابستہ رہے ہیں۔سن 2025 کے موسم گرما میں امریکہ نے شام پر عائد پابندیاں بتدریج نرم کرنا شروع کیں اور اسی سال نومبر میں صدر الشرع نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔
جولائی سن 2026 میں ان دونوں رہنماؤں کی انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک بار پھر ملاقات ہوئی۔ اس کے علاوہ سن 2026 کے آغاز میں امریکہ نے اپنی فوجی افواج شام سے واپس بلا لیں جبکہ 24 اگست کو واشنگٹن نے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے بھی باضابطہ طور پر خارج کر دیا۔
تاہم موجودہ حالات میں شام بظاہر اپنے معاملات میں زیادہ تر خود انحصاری کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، جس کا اطلاق ترکی کے ساتھ تعلقات پر بھی ہوتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار مارکس شنائیڈر کے نزدیک شام میں ممکنہ ترک فوجیوں کی موجودگی کا موازنہ اس ایرانی اثر و رسوخ سے نہیں کیا جا سکتا، جو بشار الاسد کے دور میں موجود تھا۔ان کے بقول اسرائیل میں رائج نقطہ نظر کے برعکس انقرہ کی بنیادی ترجیح شام میں استحکام اور اپنی جنوبی سرحد کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا، ''یہ تصور کہ نیٹو کا رکن ترکی اسرائیل جیسی جوہری طاقت پر حملہ کرے گا، حقیقت سے دور ہے۔
‘‘ ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل ترکی کو تیزی سے ایک اسٹریٹیجک حریف کے طور پر دیکھ رہا ہے اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو ممکنہ جارحانہ عزائم کی علامت سمجھتا ہے۔دوسری جانب بینتے شیلر کے مطابق صدر احمد الشرع اپنی حکومت کے لیے جہاں سے بھی سفارتی اور سیاسی حمایت مل سکتی ہے، اسے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، ''حالیہ مہینوں میں ترکی ان ممالک میں نمایاں ہو کر سامنے آیا، جن سے دمشق عملی اور ٹھوس تعاون کی توقع رکھتا ہے۔
‘‘شیلر کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف سلامتی تک محدود نہیں بلکہ ترکی ایک طرف خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے تو دوسری طرف وہ شام کے ساتھ مشترکہ سرحد پر استحکام برقرار رکھنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔
شام کی سلامتی کا مستقبل کون طے کرے گا؟
شام کے طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے والے حکمران بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دسمبر سن 2024 میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کے شمال میں ایک سکیورٹی زون قائم کر لیا اور اس کے بعد سے شامی اہداف پر متعدد حملے بھی کیے ہیں۔
کارنیگی فاؤنڈیشن کے ایک تجزیے کے مطابق ایسا بفر زون قائم کرنے کا تصور اسرائیلی سلامتی پالیسی کا دیرینہ حصہ رہا ہے۔ تاہم یہ بات واضح نہیں کہ آیا اسرائیل واقعی شام کو مستقل طور پر کمزور اور منقسم رکھنے کا خواہش مند ہے، جیسا کہ بعض تجزیہ کار دعویٰ کرتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (FDD) کا مؤقف کچھ مختلف ہے۔
اس کے مطابق اسرائیل کو شام کی نئی فوجی قیادت اور اس کے لیے ترکی کی حمایت پر تحفظات ہیں۔تاہم مشرق وسطیٰ کے ماہر شنائیڈر کے مطابق شام کی نئی قیادت نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد سے ہی اسرائیل کی جانب مفاہمت کا اشارہ دیا ہے، باوجود اس بات کے کہ اس کی نظریاتی جڑیں مختلف ہیں۔ ان کے بقول، ''دمشق اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا بلکہ اپنی قومی خودمختاری بحال کرنا چاہتا ہے۔
‘‘شنائیڈر کا کہنا ہے کہ یہی خواہش دراصل اسرائیل کی فوجی موجودگی اور اس کی جانب سے کھینچی گئی سکیورٹی حدود یا ''ریڈ لائنز‘‘ سے ٹکراتی ہے، جس کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
شام کو ایک قابل عمل سیاسی نظام کی ضرورت
ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن میں شام کے امور کی ماہر بینتے شیلرکے مطابق، ''شام اس وقت دو ایسی علاقائی طاقتوں کے درمیان گھرا ہوا ہے، جو فوجی لحاظ سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں اور اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام نہیں کرتیں۔
‘‘ان کے خیال میں اب بہت کچھ شامی صدر احمد الشرع کی سفارتی اور سیاسی مہارت پر منحصر ہے، ''بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ (شامی صدر) ان دونوں ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں شامی خود مختاری کا دفاع کیسے کریں گے اور شام کے لیے ایک الگ اور خودمختار راستہ کیسے متعین کریں گے؟‘‘
تاہم شیلر کے مطابق شام کا مسئلہ صرف فوجی کمزوری نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک کو سب سے پہلے ایک مستحکم اور قابل عمل سیاسی نظام قائم کرنا ہو گا، جو داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کو یقینی بنا سکے۔برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے لیے اپنے تجزیے میں سیاسیات کے ماہر حاید حاید بھی اسی نکتے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے بقول، ''شام نے خارجہ پالیسی کے میدان میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن صرف سفارتی کامیابیاں ملک میں استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتیں۔
‘‘وہ مزید لکھتے ہیں، ''اس تناظر میں شام کے لیے سب سے بڑا خطرہ اس کی سرحدوں پر نہیں بلکہ ملک کے اندر موجود ہے۔‘‘
یعنی کہا جا سکتا ہے کہ شام کا مستقبل صرف اسرائیل، ترکی یا دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات سے نہیں جڑا، بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ نئی قیادت ملک کے اندر ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ قائم کر پاتی ہے، جو مختلف گروہوں کو ساتھ لے کر چل سکے اور دیرپا استحکام فراہم کر سکے۔
یہ آرٹیکل پہلی بار جرمن زبان میں شائع کیا گیا تھا