سرکاری ہسپتالوں میں جدید اور بہترین طبی سہولیات کی دستیابی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، سینیٹر سعدیہ عباسی

جمعہ 28 اگست 2026 13:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 اگست2026ء) سینیٹر سعدیہ عباسی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں نومولود بچوں کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی جامع تحقیقات، ذمہ داروں کے شفاف تعین اور سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی طبی سہولیات کو اولین ترجیح بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جمعہ کو ایوانِ بالا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس اور دلخراش معاملہ ہے جس پر پورا ملک غمزدہ ہے، لہٰذا اس پرسنجیدگی کے ساتھ اصلاحی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سرکاری شعبے کے ہسپتالوں کی کارکردگی اور انتظامی احتساب کے منتظر ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے ہسپتالوں میں انتظامی تقرریوں کے طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اہم طبی عہدوں پر میرٹ، کارکردگی اور دستیاب وسائل کے مؤثر انتظام کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سینیٹر سعدیہ عباسی کا کہنا تھا کہ عام شہری کے لیے نجی ہسپتالوں کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں، اس لیے سرکاری ہسپتالوں میں جدید اور بہترین طبی سہولیات کی دستیابی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ صحت اور بنیادی انسانی ضروریات کو قومی ترجیحات میں نمایاں مقام ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال وفاقی دارالحکومت سمیت گردونواح کے ہزاروں مریضوں کا واحد بڑا سہارا ہے، اس لیے ادارے کے انتظامی ڈھانچے اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا شفاف جائزہ لے کر محکمانہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ ہسپتال کے نظام میں بہتری اور عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔