فلک جاوید کی بازیابی کی درخواست غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد

جمعرات 10 ستمبر 2026 19:37

فلک جاوید کی بازیابی کی درخواست غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 ستمبر2026ء) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید شہباز رضوی نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی بازیابی کی درخواست غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ کو چیلنج کرنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فلک جاوید کو چار مقدمات میں ملوث کیا گیا، فلک جاوید کو ایک فیک ویڈیو کیس میں ضمانت ملنے کے بعد اسی روز تھانہ ریس کورس کے 9 مئی کیس میں گرفتاری ڈال کر جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا، فلک جاوید کو سپلیمنٹری اسٹیٹمنٹ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جبکہ اسے اے ٹی سی عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ حاصل کیا گیا۔

(جاری ہے)

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فرخ خان لودھی نے عدالت کو بتایا کہ فلک جاوید کو اے ٹی سی عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر دیا ہوا ہے۔ وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ فلک جاوید کو آج دوبارہ عدالت میں پیش کیا جانا ہے، اس پر جسٹس سید شہباز رضوی نے ریمارکس دیئے کہ درخواست کس طرح قابلِ سماعت ہی آپ اے ٹی سی عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ ریمانڈ کیس کا فیصلہ نہیں کر رہی، فلک جاوید کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا تاہم رہائی کے فوری بعد انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا، ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق اس وقت فلک جاوید کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔