علاقے میں بے روزگاری کی شرح 38 فیصد تک پہنچ چکی ہے ،محبوبہ مفتی

جمعہ 11 ستمبر 2026 17:02

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2026ء) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیرمیں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر سخت تشویش کا اظہار کیاہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں پارٹی کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ روزگار کے مواقع پید کرنے میں ناکام رہی ہے ،جس کی وجہ سے علاقے میں بے روزگاری کی شرح تقریبا 38 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیری عوام کو بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات، مہنگائی اور بے روزگاری کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل روزگارکے مواقع پیدا کرنے کے بجائے قابض انتظامیہ آئوٹ سورسنگ، عارضی بھرتیوں اور مبینہ طور پر بیک ڈور تقرریوں پر زیادہ انحصار کر رہی ہے اور غیر کشمیری ہندوئوں کو علاقے میں نوکریاں فراہم کی جارہی ہیں ۔

(جاری ہے)

محبوبہ مفتی نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال سے صرف کشمیری نوجوان ہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر شعبوں کے کارکنوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ کشمیری نوجوان بالخصوص شدید ذہنی دبائو اور بے چینی کا شکار ہیں اور موجودہ صورتحال نے انتظامی نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔