Live Updates

ہائر ایجوکیشن کمیشن قیادت کی طرف سے اعلیٰ تعلیمی شعبے کی ڈیجیٹل تیاری اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لائحہ عمل پر غور

جمعہ 11 ستمبر 2026 17:32

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان (ایچ ای سی ) کی اعلیٰ قیادت نے یونیورسٹیوں کو ڈیجیٹل طور پر تیار کرنے اور اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کو شامل کرنے پر ایک تفصیلی مشاورت کی تاکہ جدید ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے۔ایچ ای سی کے اعلامیہ کے مطابق دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے منظر نامے کو تبدیل کرنے میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی سربراہی میں سینئر مینجمنٹ کمیٹی نے اعلیٰ تعلیم کی بدلتی ہوئی ضروریات، کیمپس کی زندگی اور اداروں کی آپریشنل اور بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتوں کے مطابق ضروری اقدامات پر غور کیا۔

اس نشست کی نمایاں خصوصیت ہواوے گلوبل ایجوکیشن ڈویژن کے نائب صدر اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر مینگ گینچانگ کی خصوصی پریزنٹیشن تھی۔

(جاری ہے)

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی قیادت نے مقامی حالات، موجودہ نظام کی مضبوطی اور کمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹیوں کی ڈیجیٹل تیاری کے لئے حکمتِ عملی اور لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مرحلہ وار ترقیاتی نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا جس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ابتدائی تجربات، نظام کی توسیع اور انضمام اور نظام کو پائیدار اور جدید بنانا شامل ہے۔

انہوں نے ڈیجیٹل انضمام کی حکمت عملیوں پر عملدرآمد کے مواقع اور چیلنجز کی نشاندہی کی اور بنیادی کورسز، جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کورسز، ایپلی کیشن ڈویلپمنٹ کورسز اور تصدیقی سند (سرٹیفیکیشن) کورسز کے ذریعے تعلیمی پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے پر بھی بحث کی۔ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے عالمی سطح پر اس شعبے میں ہونے والی پیشرفت سے ہم آہنگ رہنے کے لئے اعلیٰ تعلیم میں ڈیجیٹل اپ گریڈیشن کی مسلسل کوششوں پر زور دیا۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کی بہتر آگاہی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو ڈیجیٹل بنانے کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی تعلیم و تربیت، نصابی تبدیلیوں اور مالی ضروریات کے حتمی نتائج حاصل کرنے کے لئے مؤثر نشستوں اور رابطوں کی ہدایت کی۔ مینگ گینچانگ نے ڈیجیٹل پیشرفت اور مصنوعی ذہانت سے مختلف صنعتوں پر مرتب ہونے والے اثرات کی تفصیلی معلومات فراہم کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت زیادہ تر صنعتوں کے بنیادی پیداواری نظام میں مرکزی حیثیت حاصل کر چکی ہے جن میں وئیر ہائوسز، حکومت، پٹرول پمپ، ٹریفک کے نظام، گاڑیاں، لاجسٹکس، ڈیزائننگ، مینوفیکچرنگ، توانائی، تفریح، ہوائی اڈے، صحت کی دیکھ بھال کے نظام، دیکھ بھال و مرمت، ریٹیل اور کسٹمر سروس شامل ہیں۔گینچانگ نے اس بات کی تصدیق کی کہ مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم سے وابستہ صلاحیتوں (ٹیلنٹ) پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے ترجیحات کے تعین، اہداف کے حصول اور جہاں ضرورت ہو وہاں تبدیلیاں کر کے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی کے لئے چین کے اختیار کردہ طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہواوے نے جدت کے ذریعے صارفین اور معاشرے کے لئے زیادہ فائدہ مند تخلیق کرنے کی خاطر تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ) میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سال 2035 مصنوعی ذہانت سے متحرک ایک ذہین دنیا کا شاہد ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت نے تعلیمی نظام میں کس طرح انقلاب برپا کیا ہے کیونکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پیداواری طریقوں میں تبدیلی لا رہی ہیں جس سے صلاحیتوں کی مانگ میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 40 سے زائد ممالک اور علاقے مصنوعی ذہانت کو اپنے قومی عمومی تعلیمی نظام میں شامل کر رہے ہیں۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے صلاحیتوں کے خلا ء (تعلیمی نتائج اور معاشرتی ضروریات کے درمیان خلاء)، روزگار کے بحران، اور ان چیلنجز کے حل بشمول نئی پیداواری ورک فورس کی تیاری اور طبعی نظام میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے پر بھی تفصیل سے بات کی۔شرکاء نے ڈیجیٹل دور میں صلاحیتوں کو نکھارنے کے چیلنجز، نصاب کا ایک منظم حل، مصنوعی ذہانت کی آگاہی کا ایک متحد فریم ورک، مصنوعی ذہانت کی صلاحیت میں اضافہ اور سٹریٹجک تبدیلی اور زیادہ سے زیادہ اثرات کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے موجودہ بنیادی ڈھانچے کے استعمال کے چیلنجز کو بھی غور و خوض کے تحت لایا۔

فورم نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں چینی یونیورسٹیوں کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے لئے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کنسورشیم آف یونیورسٹیز کو استعمال کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات