مقبوضہ جموں وکشمیر : بھارتی انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے، مختلف اضلاع میں ''وی پی این'' کے استعمال پر پابندی

جمعہ 11 ستمبر 2026 17:31

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انٹرنیز، یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں ،چھوٹے تاجروں اور محنت کش افراد نے اپنے مطالبات کے تئیں بھارتی انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف زبردست مظاہرے کیے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر کی یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے ویٹرنری انٹرنیز نے اپنے وظیفے میں اضافہ کیلئے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے ۔

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین نے ’’جموں وکشمیر ڈیلی ویج فورم‘‘ کے بینر تلے اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں سرینگر میں مظاہرہ کیا۔ ضلع ریاسی میں دکانداروں اور محنت کش افراد نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔

(جاری ہے)

بھارتی قابض انتظامیہ نے ڈوڈہ ،ادھمپور اور دیگر کئی اضلاع میں ’’وی پی این‘‘کے استعمال پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ پابندی عام لوگوں، تجارتی مراکز اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروںپر لاگو ہوگی ۔بھارتی انتظامیہ کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ ’’ وی پی این ‘‘ وغیرہ پر پابندی کا اقدام دراصل کشمیریوں کو سوشل میڈیا پر بھارتی جبر و استبداد کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنا اور مختلف عالمی اخبارات اور جرائد تک انکی رسائی کو محدود کرنا ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو آج انکی 78ویں برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک خودمختار وطن کی منزل تک پہنچایا، عظیم قائد کی انتھک جدوجہدکے نتیجے میں پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پرمعرض وجود میں آیا۔

ترجمان نے کہا کہ بابائے قوم نے جموں وکشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ہے ، کشمیریوں کی عظیم قربانیاں ایک روز ضرور رنگ لائیں گی اور پورا جموں وکشمیر مملکت خداداد پاکستان کا حصہ بنے گا۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سرینگر میں پارٹی کے ایک پروگرام سے خطاب میں مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر سخت تشویش کا اظہار کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی انتظامیہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے ،جس کی وجہ سے علاقے میں بے روزگاری کی شرح تقریبا 38ً فیصد تک پہنچ چکی ہے۔