منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ پنجاب پولیس کا مبینہ ناروا سلوک ناقابلِ برداشت ہے

وزیراعلیٰ کو دور جا کر بے یارو مددگار چھوڑنا ریاستی پروٹوکول اور جمہوری اقدار کی کھلی توہین ہے، دو صوبوں کے درمیان نفرت اور تصادم پیدا کرنے کی یہ خطرناک کوشش ہے، وزیراطلاعات کےپی شفیع جان

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 14 ستمبر 2026 22:32

منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ پنجاب پولیس کا مبینہ ناروا سلوک ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 14 ستمبر 2026ء ) وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ شفیع جان نے کہا ہے کہ منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ پنجاب پولیس کا مبینہ ناروا سلوک ناقابلِ برداشت ہے، وزیراعلیٰ کو دور جا کر بے یارو مددگار چھوڑنا ریاستی پروٹوکول اور جمہوری اقدار کی کھلی توہین ہے۔ ایکس پر اپنے ردعمل میں شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ پنجاب پولیس کا مبینہ ناروا سلوک ناقابلِ برداشت ہے۔

لاہور میں ایک منتخب وزیراعلیٰ کو پنجاب پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر اپنی گاڑی میں بٹھا کر ان کی سیکیورٹی اور سرکاری گاڑیوں سے الگ کرنا انتہائی سنگین، غیر قانونی اور شرمناک اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ کو دور جا کر بے یار و مددگار چھوڑنا ریاستی پروٹوکول اور جمہوری اقدار کی کھلی توہین ہے۔

(جاری ہے)

پنجاب حکومت اس واقعے کی مکمل ذمہ دار ہے۔ ایک منتخب وزیراعلیٰ کو اغوا کرنے یا زبردستی کہیں لے جانے کی کوشش کی گئی تو اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس واقعے پر فوری وضاحت اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ شفیع جان نے کہا کہ مریم نواز کے گلو بٹوں نے وزیراعلیٰ آفریدی کو ڈالے میں ڈال کر اغوا کیا اور دور ویرانے میں چھوڑ دیا، پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ آفریدی کو ان کی سکیورٹی سے الگ کرکے زبردستی دوسری گاڑی میں منتقل کیا،پریشر بڑھنے پر وزیراعلیٰ آفریدی کو ان کی سکیورٹی کے بغیر دور ویرانے میں چھوڑ دیا گیا۔

مریم نواز کی حکومت کی پولیس گردی پنجاب کی سڑکوں پر جاری ہے، پہلے پختونوں کے خلاف متنازع بیانات اور اب خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کو اغوا کرنے کی کوشش، وزیراعلیٰ آفریدی کو اغوا کرنے کی کوشش وفاق کی بنیادوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کو اغوا کرنے کی کوشش آئین، جمہوریت اور وفاقی اکائیوں کے احترام کی کھلی خلاف ورزی ہے، مریم نواز حکومت کو منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ اس غیر آئینی اور غیر جمہوری سلوک کا جواب دینا ہوگا۔

پنجاب حکومت کی یہ کارروائی دو صوبوں کے درمیان نفرت اور تصادم پیدا کرنے کی خطرناک کوشش ہے، خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کی تذلیل کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ دوسری جانب ایکس پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اغوء کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خود وین میں بیٹھ کر کیمرہ مین اور گارڈز کے ساتھ ویڈیو بنوا رہے ہیں اور اغوا ہوگئے؟ توبہ شرم کرو، ہوش کرو، کیمرہ مین گارڈز کے ساتھ پولیس وین میں ہنستے کھیلتے اغوا کے بعد رہائی؟ کہا تھا نا پنجاب ولوں جواب اے! عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ ایک اور ڈرامہ بازی ملاحظہ کریں،خود جا کر پولیس وین میں بیٹھ گئے،پولیس والے اترنے کو کہہ رہے ہیں، اپنے گارڈذ کو اپنا ڈرامہ بلاک کرنے پر جھاڑ کر پرے کردیا، فرمائشی اور سستی ایکٹینگ ، ان کو عزت دے رہے ہیں لیکن یہ اس کے لائق ہی نہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اپنے کارکنان کو چھڑوانے کیلئے خود پولیس کے ڈالے میں بیٹھ گئے تھے، سہیل آفریدی نے پولیس کو کہا تھا کہ جب تک میرے کارکنان کو نہیں چھوڑیں گے تب تک گاڑی سے نہیں اتروں گا۔ بعد ازاں پی ٹی آئی ایکس کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ ایک صوبے کے وزیراعلی کو اغواء کرنے کی کوشش کی، اور پھر یہاں سڑک کے بیچ پھینک کر چلے گئے، یہ چھوٹی بات نہیں ان پر اب پریشر آئے گا۔