سر حد چیمبر کامر کزی بنک کی جا نب سے پا لیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر بر قر ا ر رکھنے پر تشویش

ؔکاروبار، صنعتی ترقی اور معیشت کی بحا لی کیلئے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لا نے نا گر یز ہے، صدر جنید الطاف چیمبر سینئر عہد ید ا ر اں نے میکرو اکنامک استحکام کے تحفظ کیلئے اسٹیٹ بینک کی کوششوں کو سر ا ہا ہے

بدھ 16 ستمبر 2026 19:50

ذ*پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 ستمبر2026ء) سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پالیسی ریٹ کو ایک با ر پھر 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود میں اس 'جمود' کو صنعتی اور کاروباری ترقی کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔سر حد چیمبرنے مرکزی بینک سے پا لیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ تک لائے اور اگلے تین ماہ میں پانچ فیصد کا ہدف مقرر کر نے کا مطا لبہ کیا تا کہ ملک میں معاشی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے اور معیشت کی بحالی ممکن ہو سکے۔

چیمبر کے قیا دت نے مرکزی بینک سے مانیٹری پالیسی کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرے کر نے پر زور دیا ہے ۔سر حد چیمبر نے خبردار کیا کہ موجودہ شرح سود کا نظام معیشت کا گلا گھونٹ رہا ہے اور ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈال رہا ہے۔

(جاری ہے)

گذ شتہ روز سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید الطاف، سینئر نائب صدر محمد ندیم اور نائب صدر صابر احمد بنگش اور جملہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ار اکین نے مشتر کہ بیا ن میں مر کزی بنک کی جا نب سے حا لیہ پا لیسی ریٹ کے اعلا ن پر اپنے ر رعمل دیتے ہو ئے اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔

سر حد چیمبر کے سینئر عہدیداران نے میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کو ششوں کو بھی سر اہتے ہو ئے کہا ہے کہ حالیہ مانیٹری پالیسی افراطِ زر (مہنگائی) کے کنٹر ول کر نے حوالے سے محتاط رویے کی عکاسی کرتی ہے۔تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کو اس وقت طلب میں اضافے سے پیدا ہونے والی افراطِ زر کے بجائے لاگت میں اضافے سے پیدا ہونے والی افراطِ زر کا سامنا ہے۔

مزید برآں، انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں ایندھن کی بلند قیمتیں، نقل و حمل کی بڑھتی ہوئی لاگت، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث سپلائی چین میں خلل اور خوراک کی قیمتوں کا دباؤ مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔صدر جنید الطاف نے حکومت سے ٹارگٹڈ اقدامات، توانائی کے موثر انتظام اور سپلائی چین میں بہتری کے ذریعے ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت کے اثرات کو کم کرنے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کا مطا لبہ کیا۔

انہوں نے برآمدی اور مینوفیکچرنگ شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو برقرار رکھنے کیلئے خصوصی ٹیرف (نرخوں) کو معقول بنانے کے اقدامات متعارف کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ رعایتی مالی معاونت کی مخصوص اسکیموں کو وسعت دی جائے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) موجودہ معاشی چیلنجوں کے باوجود سرمایہ کاری کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے قابل رہ سکیں۔

صدر جنید الطاف نے خیبر پختونخوا کی صنعتوں کیلئے مخصوص مراعات کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کے جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث نقل و حمل اور لاجسٹکس کی بڑھتی ہوئی لاگت کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔سر حد چیمبر کے صدر جنید الطاف نے میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی کوششوں کا اعتراف کیا۔تاہم، انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کا ماننا ہے کہ مہنگائی کا موجودہ رجحان بنیادی طور پر ایندھن، توانائی اور رسد سپلا ئی سا ئیڈ سے متعلق دباؤ کا نتیجہ ہے، نہ کہ گھریلو سطح پر طلب میں بے جا اضافے کا۔

صدر جنید الطاف نے کہا کہ کاروباری برادری کا پختہ یقین ہے کہ پاکستان صرف طلب کو کنٹرول کرنے والے اقدامات کے ذریعے رسد سے متعلقہ مہنگائی کا مقابلہ کر کے پائیدار صنعتی ترقی حاصل نہیں کر سکتا