اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 ستمبر 2026ء) بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی سابق حکمراں جماعت عوامی لیگ کے سات سینئر رہنماؤں اور عہدیداروں کو 2024 میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران خونریز کریک ڈاؤن میں اہم کردار ادا کرنے کے الزام میں ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنا دی۔
ساتوں افراد کو انسانیت کے خلاف جرائم، مظاہرین کے قتل پر اکسانے اور ہلاکتوں کے احکامات دینے سمیت دیگر الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔
یہ احتجاج بالآخر ملک میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔اقوام متحدہ
کے اندازے کے مطابق جولائی اور اگست 2024 میں ہونے والی بدامنی کے دوران 1,400 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔(جاری ہے)
کن افراد کو سزائے موت سنائی گئی؟
سزائے موت پانے والوں میں عوامی لیگ کے سابق سکریٹری جنرل عبیدالقادر اور سابق وزیر اطلاعات محمد علی عرفات شامل ہیں۔
باقی پانچ افراد بھی عوامی لیگ میں مختلف عہدوں پر فائز رہے تھے۔ ساتوں افراد تاحال مفرور ہیں۔
سرکاری وکیل محمد امین الاسلام نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر الزامات ثابت ہو گئے تھے اور ان پر معقول شک کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔
عدالت
نے ملزمان کے نصف اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ احتجاج کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کو معاوضہ فراہم کیا جا سکے۔عدالت
کی جانب سے مقرر کیے گئے دفاعی وکیل ایم حسن امام نے مؤقف اختیار کیا کہ ان افراد کا قتل کی کارروائیوں میں براہ راست کوئی کردار نہیں تھا اور انہیں کم سخت سزائیں دی جانی چاہییں تھیں۔2024 کی عوامی تحریک کے دوران کیا ہوا؟
احتجاج
کا آغاز طلبہ کی قیادت میں ایک تحریک کے طور پر ہوا تھا، جو بعد میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف ملک گیر بغاوت میں تبدیل ہوگیا۔شیخ حسینہ 5 اگست 2024 کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک بھارت فرار ہوگئی تھیں، جس کے ساتھ ہی ان کا 15 سال سے زیادہ عرصے پر محیط اقتدار ختم ہوگیا۔
خود شیخ حسینہ کو بھی نومبر 2025 میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے کریک ڈاؤن میں کردار کے الزام میں غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
شیخ حسینہ اور عوامی لیگ نے ان کے خلاف جاری عدالتی کارروائیوں کو سیاسی طور پر جانبدار قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
اب تک کتنے افراد کو سزا سنائی جا چکی ہے؟
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کے فیصلے کے بعد 2024 کی عوامی تحریک سے متعلق مقدمات میں سزا پانے والے افراد کی تعداد 68 ہوگئی ہے۔
ان میں سے 22 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے، جبکہ سزا پانے والے صرف چار افراد زیر حراست ہیں۔ بقیہ مفرور ہیں۔
فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد طارق رحمان کی قیادت میں قائم بنگلہ دیشی حکومت نے شیخ حسینہ کی بھارت سے حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
78 سالہ سابق وزیر اعظم بدستور بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ادارت: کشور مصطفیٰ