ترک صدر کی جانب سےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر بھارتی میڈیا سیخ پا

بدھ 23 ستمبر 2026 18:14

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 ستمبر2026ء) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بارپھر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا گیا جبکہ بھارتی میڈیا نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے بیان کردہ موقف پر بات کرنے کی بجائے اپنی توپوں کا رخ پاکستان اور ترکیہ کی جانب کر تے ہوئے ایک نیا پروپیگنڈا شروع کر دیاہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اقوامِ متحدہ میں تنازعہ کشمیر کی دستاویزی تاریخ 1948سے موجود ہے جس میں جموں وکشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی شامل ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے بارہا بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھایا ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے فریم ورک کے اندر مذاکرات پر زور دیا ہے۔ ترکیہ نے پاکستان کے ساتھ قریبی سفارتی اور سٹریٹجک تعلقات برقرار رکھتے ہوئے بارہا کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔

(جاری ہے)

مئی 2025کے بھارت پاکستان تصادم کے دوران ترک صدر نے عوامی سطح پر پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جبکہ ساتھ ہی کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری کی حمایت بھی کی۔

اسی وجہ سے بھارت میں مسلسل پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور پاکستان کے لیے ترکیہ کی حمایت اور کشمیر سے متعلق اس کے بیانات پر بھارتی میڈیا سیخ پا ہے۔ بھارت مسلمان ممالک کو بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی حالتِ زار اجاگر کرنے سے نہیں روک سکتا۔ ترکیہ مسلسل مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اٹھارہا ہے اور مذاکرات پر زوردے رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کا غم و غصہ نہ تو اقوامِ متحدہ میں کشمیر کی تاریخ کو مٹا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی حیثیت اور حل کے حوالے سے جاری سفارتی کوششوں کو روک سکتا ہے۔