میاں صاحب! اللہ کا واسطہ آپ گھر ہی رہا کریں، اسد عمر کی وزیراعظم سے اپیل

پچھلے ایک سال میں شہباز شریف نے 14 غیر ملکی دورے کیے، 33 دن ملک سے باہر گزارے، اس شبانہ روز محنت کے نتیجے میں غیرملکی سرمایہ کاری پچھلے سال کی نسبت 32 فیصد مزید کم ہو گئی؛ سابق وفاقی وزیر کا بیان

Sajid Ali ساجد علی پیر 28 ستمبر 2026 17:55

میاں صاحب! اللہ کا واسطہ آپ گھر ہی رہا کریں، اسد عمر کی وزیراعظم سے اپیل
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 ستمبر 2026ء) سابق وفاقی وزیرِ اسد عمر نے وزیراعظم شہباز شریف کے غیر ملکی دوروں، معاشی پالیسیوں اور ملک میں جاری سیاسی بحران پر سخت تنقید کرتے ہوئے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی عدمِ استحکام کے خاتمے اور آئینی حدود میں واپس آنے کا مشورہ دے دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے بیانات میں اسد عمر نے وزیراعظم کے بیرونی دوروں کا ڈیٹا شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ایک سال میں شہباز شریف نے 14 غیر ملکی دورے کیے اور 33 دن ملک سے باہر گزارے، ان کی اس شبانہ روز محنت کے نتیجے میں ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری پچھلے سال کی نسبت مزید 32 فیصد مزید کم ہو گئی ہے، میاں صاحب! آپ کو اللہ کا واسطہ ہے، آپ گھر ہی رہا کریں۔

حکومت کے دوہرے معیار اور آئی ایم ایف کے بہانوں پر تنقید کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ جب عوام کو کسی قسم کا کوئی ریلیف دینے کی بات آتی ہے تو یہ حکمران کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف نہیں مانتا، لیکن جب اپنے اقتدار کے جانے کا خوف آتا ہے تو یہ کروڑوں روپے روزانہ جو سکیورٹی کے نام پر خرچ کر رہے ہیں، کیا یہ آئی ایم ایف کی رضامندی سے ہو رہا ہے؟۔

(جاری ہے)

اسد عمر نے مزید کہا کہ دنیا کے تقریباً 7 ارب لوگ یا 85 فیصد سے زائد آبادی ان ممالک میں رہتی ہے جن کی فی کس آمدنی پاکستان سے زیادہ ہے اور اگر افریقی ممالک کو نکال دیا جائے تو یہ تعداد 98 فیصد بن جاتی ہے، افسوس کہ جس طرح سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ دہائیوں سے یہ ملک چلا رہے ہیں، اس نے عوام کی زندگی تباہ کردی ہے، تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ ساتھ مل کر بیٹھیں، اپنی اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ملک کا صحیح سمت میں سفر شروع کریں۔

انہوں نے ملک کے معاشی زوال کی بنیادی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پچھلے 4 سال پاکستانی معاشی ترقی کے کمزور ترین سال رہے ہیں، حکمرانوں کو کب سمجھ آئے گا کہ وہ جتنی مرضی محنت کرلیں، آئی ایم ایف سے معاہدے کرلیں یا ایس آئی ایف سی جیسے ادارے بنا لیں، جب تک اس ملک میں سیاسی بحران ختم نہیں ہوگا، تب تک معاشی ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔