لاہور مبینہ زیادتی کیس، غیرملکی لڑکی ڈیانا نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروادیا

مسکان اور نمرہ فلیٹ میں اکیلا چھوڑ کر فرار ہوگئیں، میں نے بھی واپس جانے کا کہا مگر میری انہوں نے ایک نہ سنی اور کمرے میں بند کردیا، محسن، احمد اور علی نے زبردستی شراب پلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا؛ بیان کا متن

Sajid Ali ساجد علی منگل 29 ستمبر 2026 11:25

لاہور مبینہ زیادتی کیس، غیرملکی لڑکی ڈیانا نے عدالت میں بیان ریکارڈ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 ستمبر 2026ء) پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے میں آذربائیجان کی غیرملکی لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے واقعے میں سنگین حقائق سامنے آ گئے جہاں متاثرہ غیر ملکی لڑکی ڈیانا نے عدالت میں پیش ہوکر اپنا 164 کا بیان ریکارڈ کروادیا۔
دنیا نیوز کے مطابق ڈیانا نے اپنے بیان میں واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میں 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد آئی اور پانچ دن فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور پہنچی، میرا ارادہ سکردو جانے کا تھا لیکن اکیلی ہونے کے باعث میں نے اپنی واقف کار نمرہ اور مسکان کو لاہور میں ملنے کا میسج کیا، رات 11 بجے جب میں ایک کیفے میں اکیلی موجود تھی تو مسکان میرے پاس آئی، رات 2 بجے کے قریب ایک سفید رنگ کی گاڑی آئی جس میں محسن اور احمد نامی دو لڑکے سوار تھے، جس کے بعد ہم بحریہ ٹاؤن کے ایک اپارٹمنٹ میں چلے گئے۔

(جاری ہے)

متاثرہ غیر ملکی خاتون کا کہنا ہے کہ اپارٹمنٹ میں علی زین نامی لڑکا اپنے ایک اور ساتھی کے ساتھ پہنچا، وہاں نمرہ اور مسکان نے محسن سے 20 سے 30 ہزار روپے لیے اور مجھ سے کہا کہ یہ پارٹی کے پیسے ہیں، جس پر میں نے صاف کہا کہ مجھے پیسوں یا شراب کی کوئی ضرورت نہیں، اس کے بعد محسن نے مجھے زبردستی چھونے کی کوشش کی اور ایک کمرے میں بند کر دیا۔

جب میں نے اپنی دوستوں کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ نمرہ اور مسکان پیسے لے کر جا چکی ہیں اور اب تمہاری دوست تمہارا سودا کر کے پیسے لے گئی ہے، اس لیے تمہیں جانے نہیں دیا جائے گا، میں نے انہیں 30 ہزار روپے واپس دینے کی پیشکش کی مگر انہوں نے زبردستی شراب پلائی اور اس کے بعد محسن، احمد اور علی زین نے میرے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔

ڈیانا نے مزید بتایا کہ زیادتی کے بعد انہوں نے مجھے گاڑی میں بٹھایا، گاڑی میں محسن، احمد اور علی زین موجود تھے، میرے بیگ میں 2 لاکھ پاکستانی روپے، آئی فون 13 پرو میکس اور ایک ریڈمی فون موجود تھا، انہوں نے میرا سامان واپس کرنے سے انکار کیا اور شرط رکھی کہ پولیس میں شکایت نہ کرو لیکن جب میں نے کہا کہ میں پولیس کو ضرور بتاؤں گی تو احمد اور علی زین نے مجھے دھمکی دی اور چلتی گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے سڑک پر دھکا دے دیا، وہاں موجود مقامی لوگوں نے میری مدد کی اور 15 پر کال کی جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی۔