لیاقت نہرو معاہدہ سرد خانے میں ڈال دیا گیا، محفوظ النبی خان

ہفتہ 3 اکتوبر 2026 18:17

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 اکتوبر2026ء) قائد ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی کے صدر محفوظ النبی خان نے کہا ہے کہ لیاقت نہرو معاہدہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے بعد اہم ترین دستاویزات میں سے ایک ہے، جس کے ذریعے پاکستان اور بھارت کی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی، تاہم افسوس ہے کہ اس معاہدے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔

وہ قائد ملت لیاقت علی خان کے 131ویں یوم ولادت کے موقع پر میموریل کمیٹی کے زیر اہتمام مقامی کلب میں منعقدہ مکالمے سے خطاب کررہے تھے۔ سماجی رہنما اسلم فاروقی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے محفوظ النبی خان نے کہا کہ لیاقت نہرو معاہدے پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کے حقوق کی پامالی کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔

(جاری ہے)

مکالمے میں اپوا کی صدر ڈاکٹر پروین کمال، سابق وفاقی وزیر بیرسٹر شاہدہ جمیل، سابق رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ، ڈاکٹر معیز خان، معروف مورخ محمد انیس شیخ، بائیں بازو کے دانشور اظہر جمیل، تحسین فاطمہ، قائداعظم اکادمی کے روح رواں زاہد حسین ابڑو، فرزندان پاکستان کے سرپرست رانا اشفاق رسول، ماسٹر زاہد حسین اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

کراچی کو مرکزی دارالحکومت بنانے سے متعلق سوال پر معروف مورخ محمد انیس شیخ نے کہا کہ لیاقت علی خان پر کراچی کو مرکزی دارالحکومت بنانے کا الزام بے بنیاد ہے۔ ان کے مطابق کراچی کو دارالحکومت بنانے کا فیصلہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قرارداد کے تحت آل انڈیا مسلم لیگ کی ہائی کمان نے کیا تھا، جس کا باضابطہ اعلان قائداعظم نے 20 جون 1947 کو دہلی میں کیا تھا۔

کوٹا نظام سے متعلق سوال پر محمد انیس شیخ نے کہا کہ دورِ لیاقت میں متعارف کرائے گئے کوٹا نظام کا موازنہ آج سندھ میں رائج شہری کوٹے سے نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق اس وقت کوٹا نظام کا مقصد تعلیمی سہولتوں کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانے والے علاقوں کے لوگوں کو سرکاری ملازمتوں میں تحفظ فراہم کرنا تھا۔ڈاکٹر معیز خان نے دورِ لیاقت کے کوٹا نظام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے سب سے زیادہ فائدہ مشرقی پاکستان، سندھ اور بلوچستان کو پہنچا اور ان علاقوں کے لوگوں کے لیے اعلیٰ سول سروس میں ملازمتوں کا حصول آسان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سول سروس میں 20 فیصد کوٹا خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر رکھا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے ذہین ترین افراد اعلیٰ سول سروس میں شامل ہوکر اپنی خدمات انجام دے سکتے تھے۔