ڈاکٹرعاصم کیس: روٴف صدیقی کی عبوری ضمانت میں 15 جنوری تک توسیع، وسیم اختر، انیس قائمخانی اور سلیم شہزاد سمیت مقدمے میں مفرور ملزمان کے دوبارہ وانٹ گرفتاری جاری،ملکی سالمیت کیخلاف تقاریر پر الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کے 20 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

اتوار جنوری 10:12

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3جنوری۔2016ء) سابق مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کیس میں نامزد متحدہ قومی مومنٹ کے رہنما روٴف صدیقی کی عبوری ضمانت میں 15 جنوری تک توسیع کر دی گئی ہے۔تفصیلا ت کے مطابق شر انگیز تقاریر اور دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنے کے 23 مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی۔ ڈاکٹرعاصم کیس میں نامزد روٴف صدیقی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی عبوری ضمانت کی درخواست میں توسیع کی درخواست دی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں 15 جنوری تک توسیع کر دی۔

دوران سماعت مقدمے کے مفرور ملزمان کی فہرست بھی پیش کی گئی۔ تفتیشی افسر نے مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لئے عدالت سے مزید وقت مانگا جس پر مقدمے میں مفرور ملزمان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے۔

(جاری ہے)

جن افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں ان میں وسیم اختر، انیس قائم خانی، سلیم شہزاد، قادر پٹیل اور عثمان معظم شامل ہیں۔

شر انگیزتقاریر کے مقدمے میں بھی ایم کیو ایم قائد الطاف حسین، فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی، وسیم اختر، قمر منصور، خوش بخت شجاعت، رشید گوڈیل، ریحان ہاشمی سمیت 20 سے زائد رہنماوٴں اور 200 سے زائد ایم کیو ایم کارکنوں کے وارنٹ گرفتار ی جاری کردیئے گئے ہیں۔ تمام رہنماؤں کو گرفتارکر کے 15 جنوری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ ایم کیو ایم کے قائد سمیت 20 رہنماوٴں اور دو سو نامعلوم کارکنوں پر کراچی کے مختلف تھانوں میں 23 مقدمات درج ہیں۔

ایم کیو ایم کے قائد پر الزام ہے کہ انہوں نے حساس اداروں اور ملکی سالمیت کے خلاف تقریر کی جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار ، وسیم اختر ، نسرین جلیل ، خوش بخت شجاعت ، رشید گوڈیل ، خواجہ اظہار ، قمر منصور ، روٴف صدیقی سمیت بیس رہنماوٴں اور کارکنوں پر الزام ہے کہ انہوں نے تقریر کیلئے سہولت فراہم کی۔ پولیس نے عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مفرور ملزموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے تاہم وہ گرفتار نہیں ہوسکے جس پر عدالت نے ایک بار پھر ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ عدالت نے ملزمان کو گرفتار کرکے 15 جنوری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

Your Thoughts and Comments