پاکستان سے جرمنی کی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 16 فیصد کا اضافہ

جرمنی کے سرمایہ کار پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہیں اِس سلسلے میں جرمنی کے تاجروں پر مشتمل ایک وفد بہت جلد پاکستان کا دورہ کرے گا،کمرشل کونسلر ڈاکٹر مارٹن ہرزر

منگل اپریل 17:17

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل اپریل ء) جی ایس پی پلس کی وجہ سے پاکستان سے جرمنی کی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 16 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم یہ اضافہ ابھی ناکافی ہے جس میں مزید کئی گنا اضافے کی گنجائش ہے ،جرمنی کے سرمایہ کار پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہیں اور اِس سلسلے میں جرمنی کے تاجروں پر مشتمل ایک وفد بہت جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

یہ بات جرمنی کے کمرشل کونسلر ڈاکٹر مارٹن ہرزر نے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے دورے کے دوران اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کمرشل کونسلر کے ہمراہ اُن کے کمرشل سپشلسٹ اکنامک و ٹریڈ عمر مجید بھی موجود تھے۔ٓانہوں نے کہا کہپاکستان میں برآمدی مصنوعات کی پیداواری لاگت کو کم کرنے اور معیار کی بہتری کیلئے جرمنی پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر اور بالخصوص ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کوجدید مشینری فراہم کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

اور اس سلسلہ میں جرمنی کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے بھی شروع کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانا ہے اور اس مقصد کیلئے وہ جرمنی کے بزنس مینوں کو پاکستان کے دورے کی ترغیب دینگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بالخصوص فیصل آباد انتہائی پر امن شہر ہے جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں منفی پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نارتھ زون کے چیئرمین میاں نعیم احمد نے اپنی ایسوسی ایشن کا مختصر تعارف کرایا اور بتایا کہ پی ایچ ایم اے بُنے ہوئے کپڑے کی تیاری اور برآمد کی سب سے بڑی اور منتخب تنظیم ہے۔ پاکستان بھر میں اس کی ممبر کمپنیوں کی تعداد 1600 سے زائد ہے اور اس ایسوسی ایشن کو ملک میں سب سے زیادہ روزگار کے مواقعے فراہم کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ایچ ایم اے کے ممبر سالانہ 3.2 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کماتے ہیں جبکہ ایسوسی ایشن کے دفاتر فیصل آباد کے علاوہ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں بھی ہیں۔ یہ ایسوسی ایشن حکومت کو ٹیکسٹائل بارے پالیسیوں کی تشکیل کیلئے بھی مشورے دیتی ہے جبکہ اس کے زیر اہتمام ایک تربیتی ادارہ بھی چل رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کیلئے جی ایس پی پلس کے درجہ کیلئے جرمنی کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ دوست ملک جی ایس پی پلس کے درجہ کو جاری رکھنے کیلئے بھی پاکستان کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گا

Your Thoughts and Comments