پشاور ریپڈ بس منصوبے کے ریچ۔ون پر کام کا 85فیصد،ریچ۔ٹو پر80فیصد جبکہ ریچ۔تھری پر کام کا75فیصد حصہ مکمل

منگل مئی 23:55

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل مئی ء)پشاور ریپڈ بس منصوبے کے ریچ۔ون پر کام کا 85فیصد،ریچ۔ٹو پر80فیصد جبکہ ریچ۔تھری پر کام کا75فیصد حصہ مکمل کیا جا چکا ہے اور باقی ماندہ حصے پر کام زور و شور سے جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق بی آر ٹی کے ریچ۔ون جو چمکنی سے لیکرقلعہ بالاحصار تک ہے پر تینوں انڈر پاسز کے علاوہ پختہ سڑک کی تعمیر کا کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ ملک سعد شہید فلائی اوور کے متوازی عام ٹریفک کیلئے بنائے جانے والے فلائی اوور پر کام تیزی سے جاری ہے جسے بہت جلد مکمل کر لیا جائیگا۔

اسی طرح ریچ۔ون پر بس اسٹیشنز کی تعمیر کا عمل بھی جاری ہے۔ بی آرٹی کے ریچ۔ٹو پر کام کی پیش رفت سے متعلق تفصیلات کے مطابق ریچ۔ٹو بالاحصار سے لیکر امن چوک تک ہے جومکمل فلائی اوور زپر مشتمل ہے پر کام کا 80فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔

(جاری ہے)

اس ریچ میں پائلز کی تعمیر کا کام مکمل کیا جا چکا ہے جن پر گارڈرزکھنے کاکام تیزی سے جاری ہے جس کی وجہ سے عوام کو ٹریفک کا مسئلہ درپیش ہے جس کو حل کرنے کیلئے گارڈرزرکھنے کا عمل مکمل ہوتے ہی سائیڈکی سڑکوں کی کارپیٹنگ کا کام شروع کیا جائیگا۔

اسی طرح اس منصوبے کے ریچ۔تھری جو امن چوک سے لیکر کارخانوں مارکیٹ تک ہے جس میں چار انڈر پاسز ہیں اور یہ چاروں انڈرپاسز مکمل کئے جا چکے ہیں۔اس ریچ میں پختہ سڑک کی تعمیر کا کام بھی مکمل کیا جا چکا ہے جس پر جنگلوں کی تنصیب کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ اسی طرح تہکال، تاج آباد، تاتارا پارک اور کارخانو فلائی اوور پر بھی کام تیزی سے جاری ہے اور اس ریچ کے بس اسٹیشنز پر بھی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

ساتھ ساتھ چمکنی میں بس ٹرمینل پر بھی کام جاری ہے اور کھدائی مکمل کی جا چکی ہے۔ بی آر ٹی منصوبے کے متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ جن جن مقامات پر پائلز کی تعمیر اور گارڈرزرکھنے کا عمل مکمل ہو جائے گا ان مقامات کے دونوں اطراف کی سڑکوں کی بحالی اور کارپیٹنگ کاکام جلد از جلد مکمل کیا جائیگا تاکہ عوام کو درپیش ٹریفک کا مسئلہ جلد حل ہو۔حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس منصوبے کو کم سے کم ممکنہ وقت میں مکمل کرنے کیلئے تمام تر کوششیں اور وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاہم بعض اوقات غیر متوقع موسمی حالات خصوصاً بادوباران کی وجہ سے کام میں تاخیر ہو جاتی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments