نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ مسترد کردیا‘غداری کے کیس پر فیصلہ محفوظ

اعلامیہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے‘پاکستان دنیا میں تنہا ہوچکا ہے۔ دنیا میں کون سا ملک دہشت گرد ہے؟ انٹرویو پر قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی کرے۔احتساب عدالت کے باہر گفتگو

منگل مئی 11:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل مئی ء) سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلامیہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے اور حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ملک کے اندر اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اور پتہ لگنا چاہیے کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس رکھی تھی۔

احتساب عدالت میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوچکا ہے۔ انہوں نے سوال کیا آپ بتائیں کہ دنیا میں کون سا ملک دہشت گرد ہے؟انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے انٹرویو پر قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی کرے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ غلط فہمی پر مبنی، بڑا خوفناک اور تکلیف دہ ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ کوئی ملک ہے جو آج ہمارے ساتھ کھڑا ہے، آج دنیا میں ہم تنہا ہوگئے ہیں، اتنا پیارا ملک ہے ہمارا ہم نے اسے کیا بنا دیاہے؟ایک صحافی نے میاں نواز شریف سے سوال کیا کہ 5 سال تک آپ کی حکومت رہی اس دوران ایک ملک بھی آپ نے دوست نہیں بنایا؟نواز شریف نے کہا کہ قومی کمیشن بننا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے، بات ذات کی نہیں پورے ملک کی ہے کہ ملک کس سمت میں چلا گیا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف اندراج مقدمہ سے متعلق دائر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے نواز شریف کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔اس موقع پر وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے 3 مئی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر قومی راز افشا کرنے کی دھمکی دی اور 12 مئی کے بیان کو بھارت نے پاکستان کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے اعتراف کے طور پر لیا ہے۔

بابر اعوان نے استدعا کی کہ ڈی جی ایف آئی اے کو نواز شریف کے خلاف کارروائی کرنے اور مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد نواز شریف کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔ادھر لاہور ہائیکورٹ میں بھی پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کی نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ نواز شریف کا حالیہ بیان غداری کے زمرے میں آتا ہے۔عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ نواز شریف کا بیان کس طرح غداری کے زمرے میں آتا ہے آپ نے کسی متعلقہ فورم سے رجوع کیا ہے؟جس پر خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کو درخواست دی ہے مگر اس پر کارروائی نہیں ہوئی۔عدالت نے موقف سننے کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کی درخواست قابل سماعت ہونے یا ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Your Thoughts and Comments