لندن میں زیر علاج بیگم کلثوم نواز کی طبیعت اب پہلے سے بہتر ،ْ آئندہ 48گھنٹوں میں لائف سپورٹس میشن پر رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کیا جائیگا

دوائیں اور مصنوعی طریقے سے آکسیجن دینی بھی کم کر رہے ہیں ،ْبیگم کلثو م کے دماغ کو نقصان نہیں پہنچا جو مثبت بات ہے ،ْ ڈاکٹرز کلثوم نواز محسوس کر سکتی ہیں ،ْ سن بھی رہی ہوں گی ،ْ جواب دینے کی کوشش بھی کرتی ہیں ،ْابھی وہ اس پر کنٹرول کی پوزیشن میں نہیں ،ْ بریفنگ تیماری داری کے دور ان نواز شریف تسبیح کے ساتھ ورد کر رہے تھے ،ْ مریم اور ان کی بہن بھی ورد کرتی نظر آئیں ،ْ رپورٹ

اتوار جون 13:50

لندن (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار جون ء)سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی لندن میں زیر علاج اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے ڈاکٹرز نے کہاہے کہ انھیں ادویات اور مصنوعی آکسیجن دینا کم کر رہے ہیں اور پیر یا منگل کو لائف سپورٹ مشین پر رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کنسلٹنٹ ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس اور کنسلٹنٹ ڈاکٹر میتھو برنارڈ نے شریف خاندان کو بیگم کلثوم نواز کی طبیعت کے حوالے سے بریفنگ اور حسن نواز، مریم نواز اور نواز شریف کے سوالوں کے جوابات دیئے کنسلٹنٹس کے مطابق گڈ نیوز از دیٹ دیئر از نو بیڈ نیوزیعنی اچھی خبر یہ ہے کہ کوئی بری خبر نہیں ہے۔

ان کنسلٹنٹس کے بقول اب ہم کلثوم نواز کی میڈیسن کو بتدریج کم کر رہے ہیں ،ْرکھیں گے اب بھی ان کو لائف سپورٹ مشین پر، لیکن دوائیں اور مصنوعی طریقے سے آکسیجن دینی بھی کم کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

پیر یا منگل تک دیکھیں گے کہ انھیں مشین سپورٹ پر رکھا جائے یا نہیں۔کنسلٹنٹس نے بتایا کہ دماغ کے سکین سے ظاہر ہوتا ہے کہ دماغ کو نقصان نہیں پہنچا جو کہ مثبت بات ہے۔

اس پر میاں نواز شریف کی تشویش تھی کہ جو ٹیوبز اور ماسک لگے ہوئے ہیں وہ کب اور کتنی جلدی ہٹیں گی۔ بی بی سی کے مطابق مریم نواز دماغ کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں جبکہ حسین نواز کے سوالات بھی اسی نوعیت کے تھے۔اس دوران میاں نواز شریف چھوٹی سبز رنگ کی تسبیح کے ساتھ ورد کر رہے تھے جبکہ مریم اور ان کی دوسری بہن بھی وفقہ سوالات میں ورد کرتی نظر آئیں۔

کنسلٹنٹس کے جوابات میں کہاگیا کہ سپورٹ مشین ہٹائے جانے کے بعد اسے دوبارہ لگانا ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے ،ْ ہٹائے یا لگی رہنے کا فیصلہ پیر یا منگل کو کریں گے۔انھوں نے بتایا کہ کلثوم نواز محسوس کر سکتی ہیں اور سن بھی رہی ہوں گی جس کا وہ جواب دینے کی کوشش بھی کرتی ہیں لیکن ابھی وہ اس پر کنٹرول کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہمیں اس کا اندازہ ان کی ہاٹ بیٹ اور بلڈ پریشر سے ہوتا ہے ،ْ ہم دیکھیں گے کہ ان کا رسپانس کتنا بہتر ہے تاہم گذشتہ جمعرات کے مقابلے میں جب وہ ختم ہو سکتی تھیں اب بہت بہتر ہیں۔

ابتدا کے 72 گھنٹے خطرناک تھے’ شی کٴْڈ بی ڈیڈلیکن اب تصویر دوسری ہے ،ْٹیوبز ہٹائے جانے یا بدلتے وقت انھیں قے یا الٹی نہیں ہونی چاہیے جس کیلئے ہم ادویات دے چکے ہیں اور بھی دیں گے۔یاد رہے کہ 21مارچ کو نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اطلاع دی تھی کہ کلثوم نواز کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہیں اور انھیں مصنوعی طریقے سے سانس دیا جا رہا ہے۔

بیگم کلثوم نواز کو چند ماہ قبل کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ اس وقت برطانیہ میں زیر علاج ہیں۔بیگم کلثوم نواز کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین مسلسل ان کے ساتھ ہیں تاہم ان کے شوہر اور ان کی بیٹی مریم نواز اسلام آباد کی احتساب عدالت سے اجازت ملنے کے بعد لندن پہنچے تھے ،ْاس وقت ان کی بیٹی مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنی والدہ کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں لکھتے ہوئے کہاتھا کہ ہم جہاز میں تھے جب امی کو اچانک دل کا دورہ پڑا ،ْاب وہ آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر ہیں ،ْ آپ سب سے التجا ہے کہ ان کے لیے دعا کریں۔

Your Thoughts and Comments