Faalij Se Bachao Kyo Kar - Article No. 1490

فالج سے بچاؤ کیوں کر؟ - تحریر نمبر 1490

جمعہ فروری

Faalij Se Bachao Kyo Kar - Article No. 1490

صباعمران
تین برس کے بعد ہم تین سہیلیوں نے بالآخر ایک جگہ مل بیٹھنے کا پروگرام بنایا۔فاطمہ بھی ہمارے گروپ میں شامل تھی ۔ جب وہ ہماری میز کی طرف آرہی تھی تو میں نے اسے خفیف سا لنگڑا تے ہوئے دیکھا ۔
میں نے اس سے پوچھا:”کیا تم گرگئی تھیں یا تمھیں چوٹ لگ گئی،جویوں لنگڑا کر چل رہی ہو؟“
وہ دھیرے سے مسکرائی اور کہا:”نہیں ،ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔

گزشتہ برس مجھے فالج ہو گیا تھا۔“
ہمیں بہت صدمہ ہوا ،اس لیے کہ فالج کے مریضوں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ عام افراد کی طرح زندگی نہیں گزار پاتے ،لیکن فاطمہ سوائے معمولی سالنگڑا نے کے عام افراد جیسی تھی ۔وہ ہشاش بشاش اور توانا تھی۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں کہ فالج ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زندگی کا خاتمہ ہو گیا اور مریض اب حرکت نہیں کر سکتا۔

(جاری ہے)

اگر اس مرض کا ابتدائی مرحلے میں توجہ سے علاج کیا جائے تو مریض شفایاب ہو جاتا ہے اور عام افراد جیسی زندگی گزارنے لگتا ہے ۔فالج دماغ پر حملہ کرتا ہے ،جس میں دماغ کواوکسیجن کی فراہمی بند ہو جاتی ہے ۔چناں چہ دماغ کے خلیے(سیلز) مردہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔دماغ جسم کے سارے اعضا کی حرکات وسکنات کو قابو میں رکھتا ہے ۔
دماغ کے کچھ حصوں کے خلیوں کے مردہ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بہت سے اعضا کی حرکات وسکنات مفلوج ہونا شروع ہو گئی ہے ۔

جب فالج کا ہلکا حملہ ہوتا ہے تو ہاتھ پیروں میں کم زوری آجاتی ہے اور قوت گویائی پر اثر پڑتا ہے اور زبان لڑکھڑا نے لگتی ہے ۔یہ حالت غیر مستقل یا مستقل ہو سکتی ہے ۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق کچھ مریض خوش قسمتی سے اپنی مضبوط قوت ارادی ،اہل خانہ کی توجہ اور بروقت علاج سے مستقل طور پر اس مرض سے نجات حاصل کر لیتے ہیں ،البتہ دو تہائی افراد مفلوج ہو جاتے ہیں ۔


فالج کی دو اقسام ہیں :پہلی کو کمیِ خون والا فالج (ISCHEMIC STROKE)کہتے ہیں ،جس میں خون کی شریا نیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں ،اس بنا پر جسم کے سارے حصوں ،خاص طور پر دماغ تک خون کی فراہمی بند ہونے لگتی ہے ۔دوسری قسم کی جریانِ خون والافالج (HEMORRHAGIC STROKE)کہتے ہیں ،جس میں دماغ کی رگیں پھٹ جاتی ہیں اور خون بہنے لگتا ہے ۔اس سے جسم میں ورم اور سوجن ہوجاتی ہے ،پھر مزید خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے ۔


جریانِ خون کی دو اقسام ہیں :پہلی میں دماغ کے اندر کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں ،جب کہ دوسری میں وہ بافتیں (TISSUES) پھٹ جاتی ہیں ،جو دماغ میں پھیلی ہوتی ہیں ۔اگر اس کا دورانیہ ایک گھنٹے سے کم ہوتو پھر اسے چھوٹے حملے والا فالج کہنا چاہیے ،اس سے مریض فوراً ہلاک نہیں ہوتا ،البتہ اس کی جان خطرے میں پڑجاتی ہے ۔
ہائی بلڈ پریشر ،کو لیسٹرول کی زیادتی ،غیر صحت مندانہ طرز زندگی ، ناقص غذا،ذیابیطس،مٹاپا،غیر متحرک رہنا ،عمر رسیدگی ، تمبا کو نوشی ،منشیات کے استعمال اور کام کی زیادتی کے باعث جسم کی شریانیں سخت ہو جاتی ہیں ۔

اس کے علاوہ دماغ میں شریانوں اور وریدوں کے مابین غیر طبعی (ABNORMAL) اتصال سے بھی فالج ہو جاتا ہے یا خون کی شریانیں سُوج جاتی ہیں ۔
فالج کا حملہ اچانک ہوتا ہے ،تاہم اس کا اثر ہر فردپر مختلف ہوتا ہے ۔یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جسم کے کس حصے پر فالج گرا ہے اور اس کی وجہ سے کس حد تک نقصان پہنچ چکا ہے ۔جسم کا دایاں اور بایاں حصہ کیا محسوس کررہا ہے ۔

بولنے اور بات سمجھنے میں کتنی دشواری ہورہی ہے ۔اس کے علاوہ اگر مریض پر غنودگی طاری ہورہی ہے ۔سردرد کی شکایت ہے ،قے اور متلی ہورہی ہے ،بینائی متاثر ہونی شروع ہو گئی ہے ،جسم کا کوئی حصہ بے جان ہورہا ہے ،خیالات منتشر ہورہے ہوں ،بات کرنے میں دقّت پیش آرہی ہو ،دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو چکی ہو ،سانس لینے میں دقّت ہورہی ہو چہرے کے عضلات میں کھچاؤ پیدا ہورہا ہو یا زبان متاثر ہورہی ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ فالج کا حملہ ہو چکا ہے ۔


وہ معالج جو فالج کا حملہ ہونے کے بعد مریض کا معائنہ کرتا ہے ،وہ سب سے پہلے مریض کی ظاہری حالت دیکھتا ہے ،مریض کے خاندانی حالات کا مطالعہ اور بلڈ پریشر کا معائنہ کرتا ہے ۔اس کے بعد مریض کا سی ٹی اسکین اور ایم آئی آر کروایا جاتا ہے ،تا کہ اندازہ ہو سکے کہ مریض کس حد تک متاثر ہوا ہے ۔پھر وہ فالج کی قسم کا تعین کرتا ہے ۔
اس کے بعد وہ ابتدائی علامات کی چھا ن بین کرنے کے بعد علاج شروع کرتا ہے ۔

فالج کا حملہ ہونے پر تین گھنٹوں کے اندر اگر علاج معالجہ شروع کر دیا جائے تو مریض کے بچنے کے 80فی صد امکانات ہوتے ہیں اور مرض کی پیچیدگیاں کم ہو جاتی ہیں۔
کمیِ خون والے فالج 70فی صد ہوتے ہیں ،جس کا علاج یہ ہوتا ہے کہ خون کے تھکّوں (CLOTS) کو ختم کیا جاتا ہے ، تا کہ خون رواں ہو جائے اور مزید تھکّے نہ بنیں ۔مرض کی اس قسم کے لیے انجیوپلاسٹی (ANGIOPLASTY) بھی ایک عام علاج ہے ۔

جریانِ خون کا علاج جراحی سے کیا جاتا ہے ،
تاکہ مجروح شریانوں کو جوڑا جا سکے۔
اس کے علاوہ بلڈ پر یشر پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ۔ایک معالج کے مطابق فالج کا حملہ ہونے کے بعد زندگی تبدیل ہو جاتی ہے ،جس میں مریض کی جسمانی ،جذباتی اور دماغی کیفیت پر اثر پڑتا ہے ۔اس کے بعد شفایابی میں چھے ماہ سے لے کر کئی برس لگ سکتے ہیں ۔

ویسے اس کا انحصار اچھے علاج پر ہے ۔مثلاً مریض کا جسمانی علاج کرنے کے ساتھ زبان کا علاج بھی کیا جائے ،تا کہ وہ بول سکے ۔اس کے علاوہ کسی معالج سے نفسیاتی علاج بھی کرانا بہتر ثابت ہوتا ہے ۔
اس سب باتوں پر عمل کرنے کے لیے مریض کی قوتِ ارادی اور اس کا تعاون بھی ضروری ہے ۔نفسیاتی علاج اس لیے ضروری ہے کہ مریض اضطراب وتشویش کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس پر اضمحلال و افسردگی طاری ہو جاتی ہے ۔


جسمانی علاج کے ذریعے کو شش کی جاتی ہے کہ مریض کے دماغ کو خاص قسم کے اشارے دیے جائیں ،تا کہ وہ بیدار ہو جائے اور معمول کے مطابق کام کرنے لگے ۔مریض کے لیے ہلکی ورزش بھی ضروری ہے ۔اس سے مریض کو عضلات اور اعصاب کی کم زوری پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے ۔پھر اس کے ہاتھ پیرکام کرنے لگتے ہیں ۔
فالج سے نجات پائی جاسکتی ہے ،بشر طے کی طرزِ زندگی میں تبدیلی پیدا کی جائے اور صحت بخش غذائیں کھائی جائیں ۔سرخ گوشت ،چکنائی اور نمک کھانا ترک کر دیا جائے ۔پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ کھائی جائیں ۔بلڈ پریشر ،شکر اور کولیسٹرول کو پابندی سے چیک کیا جائے ،منشیات اور تمبا کو نوشی سے اجتناب کیا جائے اور نیند کے اوقات مقرر کیے جائیں ۔

تاریخ اشاعت: 2019-02-15

Your Thoughts and Comments