Asim Ki Kahani

عاصم کی کہانی

اس کا یہ حال دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔ مگر یہ سب اس کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ تھا۔

پیر مئی

Asim Ki Kahani
انعم صدیقی
عاصم میرا بچپن کا جگری دوست تھا وہ نہایت ذہین تھا۔ وہ خوبصورت اور خوش قسمت تھا ،مگر حد درجہ مغرور تھا۔ ہمارے چھوٹے سے گاؤں میں اس کے خاندان کی بہت عزت کی جاتی تھی ۔اس کے خاندان کا ہر فرد شریف اور دوسروں کی نگاہوں میں محترم تھا۔
گاؤں کا ہر شخص انہیں جاننا اور رشک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ وہ ضرورت مندوں کا خاص خیال رکھتے تھے ۔بے شمار گھروں کا خرچہ اس گھر نے اٹھایا ہوا تھا۔ وہ تھے بھی بہت مالدار ،ہزاروں ایکڑ زمین کے تنہا مالک ،کئی کھیت اور باغات ان کی ملکیت تھے۔

میں اور عاصم دونوں گاؤں کے واحد سکول میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے تھے ۔سکول کا ہر فرد ہم دونوں کا احترام کرتا تھا ۔تمام اساتذہ عاصم سے بہت پیار کرتے تھے ۔

(جاری ہے)

ہمارے گاؤں کا وہ واحد گھر تھا جو بستی کے آخر میں گھنے باغات اور سر سبزو شاداب کھیتوں کے درمیان ایک خوبصورت محل کی مانند مسکراتا ہوا نظر آتا تھا ۔

اس کے پیچھے ایک نہر بہتی تھی ۔ہماری تعلیم بھی بہت اچھی چل رہی تھی ۔شروع میں عاصم بھی میری ہی طرح کلاس کی اگلی سیٹ کا مالک تھا ،مگر آہستہ آہستہ اس کی توجہ تعلیم سے ہٹتی چلی گئی ۔وہ مغرور ہو گیا اور اب ہماری دوستی بھی پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔

برے دوستوں سے مل کر وہ اپنی شرافت کھو چکا تھا۔ بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں اساتذہ کا بھی احترام نہیں رہا تھا۔ خاندان پر غرور اور اپنے مال پر گھمنڈ کرنا اس کی عادت بن چکی تھی۔ اس کی بری عادتیں سب پر ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں ،مگر اس سے میرے تعلقات بد ستور قائم رہے ۔
جب کبھی میں اسے نصیحت کرتا وہ برامان جاتا۔ اس کے باوجود میں اسے برابر نصیحت کرتا رہتا۔ کئی اساتذہ اسے سدھارنے کی کوشش کرتے رہے ،مگر بے سود۔ اسی طرح سال گزرتے رہے ۔وہ صرف اس بناء پر کامیاب ہو رہا تھا کہ وہ ایک شریف خاندان کا چشم وچراغ تھا ورنہ ،نہ اس کی صلاحیتیں نکھر سکیں اور نہ ہی اسے کسی دوسرے فن سے دلچسپی تھی کہتے ہیں کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا اور ایسا ہی کچھ عاصم کے ساتھ ہوا۔
جب ہمارا دسویں کا امتحان قریب آیا تو ایک رات اچانک زور دار ہوائیں چلنے لگیں جو کچھ ہی دیر میں تیز وتند آندھی کی شکل اختیار کر گئیں۔ طوفان بھی زوروں پر تھا۔ صبح اس سال میں ہوئی کہ بڑے بڑے درخت اپنی جڑوں سے اکھڑ چکے تھے ۔
طوفان کے باعث ساری فصل تباہ ہو چکی تھی ۔کئی عمارتیں منہدم ہو چکی تھیں ۔عالیشان ،بنگلوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ ہزاروں انسان موت کے گھاٹ اتر چکے تھے اور عاصم کا سارا خاندان بھی اس مصیبت میں گرفتار ہو چکا تھا۔ صرف چند افراد بچ سکے تھے ۔
جن میں عاصم بھی تھا۔ اس کے والدین بھی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے ۔اس وقت عاصم کی عمر تقریباً 18سال تھی ۔ان کی ساری جائیداد بھی تباہ ہو چکی تھی اور گاؤں کے دوسرے افراد کا بھی بہت نقصان ہوا تھا۔ ہمارے گاؤں کا واحد سکول بھی طوفان کی نذر ہو کر کھنڈر بن چکا تھا۔
اس وقت میری اور عاصم کی حالت نا قابل بیان تھی۔ چند دنوں بعد عاصم نے اپنی تعلیم ترک کر دی ،مگر میں نے بد ستور تعلیم اور عاصم سے اپنی دوستی بھی جاری رکھی ، میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر لاہور چلا گیا ۔اس دوران میں نے عاصم کو بھی ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا۔

کچھ عرصے بعد خط وکتاب بھی ختم ہو گئی ۔اسی طرح سال گزرنے لگے تقریباً 20سال بعد میں اپنے شہر لوٹا اور شعبہ تعلیم کے بڑے عہدے پر فائز کر دیا گیا ۔عاصم کا خیال آتے ہی اس کے پتے پر جب اس کو تلاش کیا تو یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ وہ ہمارے ہی محلے میں آئس کریم بیچتا ہے ۔
جب میں نے اس سے ملاقات کی تو وہ مایوسی کے انداز میں مجھے دیکھتا رہا، کچھ دیر بچپن کی یاد تازہ کرنے کے بعد جب میں رخصت ہو رہا تھا تو وہ ایک ہاتھ بڑھا کر کہنے لگا”یار پاس کچھ پیسے ہوں تو میری مدد کرتے جاؤ“۔ اس کا یہ حال دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔
مگر یہ سب اس کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ تھا۔ بچو! عاصم کی کہانی سے ہمیں یہ عبرت ملتی ہے کہ کبھی بھی اپنے بڑوں کی نافرمانی نہ کریں اور خدائے بزرگ وبرتر کی عطا کردہ نعمتوں پر غرور کی بجائے شکر ادا کریں۔

Your Thoughts and Comments