Pahari K Dosri Taraf

پہاڑی کے دوسری طرف

یہ جنگلی پھولوں ،پھل دار درختوں سے اس طرح ڈھکی تھی کہ ہوائی جہاز میں بیٹھ کے اوپر سے کوئی دیکھتا تو مٹی پتھر کچھ نظر نہیں آتا۔

بدھ مئی

Pahari K Dosri Taraf
محمد سلیم ۔اسلام آباد
شہر سے دور ایک پہاڑی تھی ۔یہ جنگلی پھولوں ،پھل دار درختوں سے اس طرح ڈھکی تھی کہ ہوائی جہاز میں بیٹھ کے اوپر سے کوئی دیکھتا تو مٹی پتھر کچھ نظر نہیں آتا۔سب کچھ ہر اہرایا پھولوں کا نیلا،پیلا ،نارجنی ،سرخ رنگ ہی دکھائی دیتا۔

پہاڑی کے برابر سے ایک سڑک گزرتی تھی جو شہر تک جاتی تھی ۔سڑک پکی نہیں تھی ۔پکی بنانے کی ضرورت بھی کیا تھی ،ادھر لوگوں کا آنا جانا کم ہی تھا۔دن میں دو بار دودھ لے جانے والے گوالے اپنی سائیکلیں کھڑ کھڑاتے گزرتے تھے یا پھر اپنے ریوڑ سنبھالتے ہوئے اِکا دُکا چروا ہے تھے۔
ہفتے میں ایک دومرتبہ گھوڑوں پر سوار سر کاری کا ر ندوں کا گزر ہوتا تھا ۔کسی کا خط یا تار پہنچانا ہوتا تو ڈاکیا اپنی پرانی سائیکل سنبھالے ادھر نکل آتے۔

(جاری ہے)

وہ آدھا دن گزارکے پہاڑی کی دوسری طرف بستیوں میں گنتی کے چند خط پہنچاتے اور واپس شہر لوٹ جاتے۔


خود بستیوں کے لوگ کبھی کبھار ہی شہر جاتے تھے ۔وہ اپنی ضرورت کا سامان وہیں کے ایک دکاندار سے خریدلیتے تھے ۔دکان دار دکان ہی میں رہتا تھا۔اکیلا آدمی تھا،کہیں آتا جاتا نہیں تھا۔دس بارہ دن بعد وہ اپنی گھوڑا گاڑی تیار کرتا اور سویرے سویرے شہر چل دیتا۔
سامان خرید کروہ شام ہوتے ہوتے لوٹتا۔
سورج ڈوبنے تک سب کچھ سنبھال کے فارغ ہو جاتا۔ندھیرا ہونے پروہ دکان کے دروازے بند کر لیتا تھا پھر صبح سے پہلے نہیں کھولتا تھا۔چاہے کچھ ہو جائے ۔کوئی بھی آجائے مگر کوئی کیوں آنے لگا․․․․؟بستی کے لوگ مغرب ہوتے ہی گھروں میں بند ہو جاتے تھے۔
پھر دوسرے دن سورج کے ساتھ ہی نکلتے تھے۔
اس کی ایک وجہ تھی ۔سب نے سن رکھا تھا کہ پہاڑی پر بہت سے خطر ناک جانوروں کا بسیرا ہے ۔ایک تو وہاں چیتے کا جوڑارہتا ہے ۔بہت ہی ڈراؤ نے دو خاندان ریچھ کے ہیں۔ ایک بوڑھا شیر کہیں سے آگیا ہے۔
سنا ہے اور بھی بھیانک جانور پہاڑی پر بسے ہوئے ہیں ۔ان خطر ناک جانوروں کو بہت کم لوگوں نے دیکھا تھا۔اب جو وہاں رہتے تھے ان میں سے تو کسی نے بھی نہیں دیکھا ہو گا۔دیکھنے والے پہلے کبھی وہاں رہتے ہوں گے ۔ہاں خطر ناک جانوروں کی آوازیں بہت لوگوں نے سن رکھی تھیں ۔
کسی کسی نے سایوں کی طرح انہیں گزرتے بھی دیکھا تھا۔ وہ لوگ پریشان رہتے تھے اور خطر ناک جانوروں کی آوازیں اور سایوں کے بارے میں اپنے بچوں کو بتایا کرتے تھے۔
برسوں سے سب اسی طرح تھا۔گلیوں محلوں میں دن کے وقت تو خوب چہل پہل رہتی ،رات ہوتے ہی سناٹا ہو جاتا تھا۔
گھروں میں بند اپنے بستروں پر لیٹے بیٹھے لوگ بس نیند کا انتظار کرتے تھے۔
ایک دن شہر سے شکیل نام کا ایک لڑکا پہاڑی کے دوسری طرف جانے کے لیے روانہ ہوا۔وہ دکاندار کا بھتیجا تھا اور چچا کے بلانے پر چھٹیاں گزارنے جارہا تھا۔
دکان دار چچانے اپنے خط میں اسے اچھی طرح سمجھا کر لکھ دیا تھا کہ وہ دن ہی دن میں پہاڑی کے ادھر پہنچ جائے۔رات کے وقت آنا ٹھیک نہیں ہے
۔
شکیل شہر سے چلا تو خوب دھوپ نکلی ہوئی تھی۔کچھ دور اس نے ایک بڑے میاں کو خاکی وردی پہنے چمڑے کا جھولا لٹکائے سائیکل پر آہستہ آہستہ جاتے دیکھا۔
اس نے دوڑ لگا کر انہیں جالیا۔وہ چچا کی دکان کا پتہ سمجھنا چاہتا تھا۔یہ ڈاک منشی تھے ۔ہمدردآدمی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہیں جارہے ہیں اگر شکیل بیٹھنا چاہے تو سائیکل پر ان کے ساتھ بیٹھ سکتاہے ۔واہ واہ ․․․․اس سے اچھی کیا بات ہو گی ۔
وہ خود بھی سائیکل چلانا جانتا تھا۔انہوں نے طے کیا کہ دونوں باری باری چلائیں گے۔
خیر․․․․پہاڑی کے برابر سے جاتی اس سڑک پر یہ دونوں چلے جارہے تھے کہ اتفاق سے ایک جیپ گاڑی پہاڑی ڈھلان پر سے اترنے لگی ۔سائیکل اس وقت بڑے میاں چلا رہے تھے ،ان کا دھیان اس طرف نہیں تھا،جیپ کو اچانک سامنے پا کروہ گڑ بڑا گئے اور سائیکل کا پچھلا پہیہ گزرتی جیپ سے ٹکراگیا۔

دونوں دورجا گرے۔شکیل تو سڑک کے کنارے اُگی گھاس پر گراتھا۔معمولی خراشوں کے سوا اسے چوٹ نہ آئی۔ڈاکیے بابا بے چارے بے ہوش ہو گئے ۔سائیکل بھی ٹوٹ پھوٹ گئی ۔جیپ والوں نے اتر کر دیکھا۔غلطی ان کی نہیں تھی مگر وہ ذمہ دار لوگ تھے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم ڈاکیے کو شہر کے اسپتال لے جاتے ہیں تم بھی آنا چاہوتو آسکتے ہو۔
شکیل نے سوچا کہ چچا کی دکان دور کتنی ہو گی ،وہ چلتا رہے تو اچھا ہے ۔اس نے جیپ پر ڈاکیے کو سوار
کر ایا،ان کی سائیکل چڑھا دی ،جھولا بھی رکھ دیا۔
جیپ شہر کی طرف چلی گئی۔
ان باتوں میں کافی وقت لگ گیا تھا اور سورج جھک آیا تھا۔شکیل نے سوچا وہ سڑک چھوڑ کر کسی چھوٹے راستے سے پہاڑی پر چڑھتا ہواروشنی روشنی میں دکان تک پہنچ سکتا ہے ۔بس وہ جنگلی پھولوں پھلوں سے لدے ٹیڑے میڑھے درختوں کے درمیان راستہ بناتا پہاڑی پر چڑھنے لگا۔
طرح طرح کی چڑیاں اور تتلیاں اڑتی پھرتی تھیں۔ خرگوش اور گرگٹ تھے اور درختوں کے تنوں پر چلتے شوخ رنگوں والے کیڑے مکوڑے تھے۔درختوں پر پھل پک رہے تھے ۔ان سب خوبصورت چیزوں کو دیکھتا پھلوں کے مزے لیتا شکیل چلتارہا۔
وہ اپنے خیال سے ٹھیک چل رہا تھا۔
سمجھ رہا تھا کہ گھنٹے بھر میں پہاڑی کے ادھر اتر جائے گا مگر وہ راستہ بھٹک گیا تھا۔شام گہر ہوگئی اور پرندے شور کرتے درختوں پر واپس آنے لگے ،دیکھتے دیکھتے سورج ڈوب گیا۔گھنے جنگل کے اندھیرے نے اسے اور بھٹکا دیا مگر وہ باہمت لڑکا تھا،چلتا رہا۔
کچھ دیر میں چاند نکل آیا جس کے دھیمے اجالے میں وہ راستہ ڈھونڈتا رہا۔رات آدمی سے زیادہ گزر گئی۔
شکیل تھک گیا تھا،اسے بھوک بھی لگ رہی تھی مگر چاندنی رات میں پہاڑی کے ہرے بھرے درختوں اور اڑنے پھرنے والے پرندوں اور جانوروں کی آوازوں سے ایسا کچھ سماں بندھاتھااور رات کو کھلنے والے پھولوں کی خوشبو نے ایسا جادو چلایا تھا کہ شکیل کو بھوک اور تھکن کا زیادہ خیال نہیں آیا۔
آخر اُجالا ہوتے ہوتے وہ دوسری طرف جا اترا۔
اس کا چچا دکان کھولنے کی تیاری کر رہا تھا۔شکیل کو پہچان کر وہ خوش ہوا اور پریشان بھی ہو گیا۔بھلا اس طرف سے ،اس وقت کوئی یہاں کیسے پہنچ سکتاہے․․․․؟
رات میں تو پہاڑی پر خطر ناک جانوروں کا راج ہوتا ہے ۔
شکیل کے لے یہ خطر ناک جانوروں والی بات نئی تھی ۔اسے گرگٹ ،چڑیاں ،جگنو ،خرگوش اور دوسرے دلچسپ جانور بے شک ملے تھے اور جنگل کے رسیلے پھل اور رات میں کھلنے والے پھول بھی پہاڑی پر تو کوئی ایک بھی خطر ناک جانور نہیں ہے ۔
چچا سوچ میں پر گئے ۔
یہاں ایسے خطر ناک جانور ہوں گے ہی نہیں ۔جس نے بھی پہلے پہل ان جانوروں کی بات پھیلائی تھی اس نے انہیں خود تو دیکھا نہیں ہو گا،بس اپنا وہم اور اپنا خوف دوسروں سے بیان کر دیا ہو گا یا بہت سے بہت اس نے ڈراؤنی آوازیں سنی اور سائے دیکھے ہوں گے ،جنہیں وہ سمجھ نہیں پایا ہو گا۔
درختوں کے ہلتے سائے اسے چیتے،شیر اور ریچھ نظر آئے ہوں گے ۔رات میں جنگل کی دلچسپ آوازیں اس کے خوف کے ساتھ بدل گئی ہو ں گی ۔چچا نے کہا”دیکھو سب نے وہم کی اور ڈر کی سنی سنائی باتوں کو سچ سمجھ لیا اور ڈر گئے مگر تم نے ایسانہ کیا ہو ۔
تم نے رات کا یہ سفربے خوفی سے کیا ہے اور ہر طرح کے وہم سے آزاد رہ کر کیاہے ۔یہ بات بہت اچھی ہے ۔“
اس کا مطلب یہ ہوا کہ محض سنی سنائی باتوں سے متاثر ہو کر ،چیزوں کو حقیقت نہیں سمجھ لینا چاہیے۔کہیں بہادری اور کہیں عقل سے کام لے کر تحقیق کرلینا چاہیے۔

Your Thoughts and Comments