فیصل آباد ملازمہ تشدد کیس، ملازمہ نے میرے بال کھینچے اس لیے اسے تشدد کا نشانہ بنایا

تصویر کا دوسرا رخ نہیں دکھایا جا رہا ہمیں ظالم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، گرفتار ملزم کی مفرور بیٹی کا بیان

muhammad ali محمد علی ہفتہ دسمبر 22:48

فیصل آباد ملازمہ تشدد کیس، ملازمہ نے میرے بال کھینچے اس لیے اسے تشدد ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 05 دسمبر 2020ء) فیصل آباد میں ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے والی خاتون کے مطابق ملازمہ نے میرے بال کھینچے اس لیے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ تفصیلات کے مطابق فیصل آباد تشدد کیس میں ملوث ملزم منیر کی مفرور بیٹی کا بیان سامنے آیا ہے۔ نامعلوم مقام سے بذریعہ ٹیلی فون ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ملزمہ نے کہا کہ ہمیں جان بوجھ کر ظالم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، کوئی بھی تصویر کا دوسرا رخ پیش نہیں کر رہا۔

ہمارے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ایک موٹی لڑکی ہمارے بچے کے اوپر بیٹھ کر اسے مار رہی تھی۔ جب میں نے وہاں پہنچ کر لڑکی کو کہا کہ یہ تم کیا کر رہی ہے، تو اس پر اس لڑکی نے میرے بال کھینچے جس کے بعد اس کی پٹائی کی۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث گرفتار ملزم منیر کے گھر کی خواتین کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

خواتین روپوش ہیں انہیں تلاش کیا جا رہا ہے۔ جبکہ تشدد کا نشانہ بننے والی بچی تلاش کر لی گئی، جبکہ واقعے کی مزید تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ بچی ساہیوال میں موجود تھی جسے پولیس نے تحویل میں لے کر چائلد پروٹیکشن بیورو کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بچی کو ملزم منیر نے فیصل آباد سے ساہیوال بھیج دیا تھا۔ بچی نے میڈیا کو دیے گئے بیان میں بتایا ہے کہ وہ جس گھر میں کام کرتی ہے وہاں کی باجی گھر نہیں تھی۔

بچے مور کو مار رہے تھے، بچوں کو ایسا کرنے سے روکا تو جھگڑا ہوگیا۔ سہمی ہوئی حالت میں بیان دیتے وقت بچی نے مزید کہا کہ وہ چاہتی ہے اب کچھ نہ کیا جائے، میرے والدین کو بھی اس معاملے کا پتہ نہ چلے ورنہ وہ پریشان ہو جائیں گے۔ واقعے کے حوالے سے پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ منیر نامی شخص کے بچے ہمسایوں کے گھر مور دیکھنے گئے تھے۔ ہمسایوں کے گھر منیر کے بچوں کا جھگڑا ہوا جس کے بعد منیر، اس کی اہلیہ اور بیٹے نے بعد میں 12 سال کی گھریلو ملازمہ پر تشدد کیا۔ تشدد کا نشانہ بننے والی بچی ملزمان کے پڑوس میں کام کرتی ہے۔

فیصل آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments