بھارت کی جوہری ہتھیاروں میں جدیدیت اور اضافے سے خطے کا استحکام کو خطرات لاحق ہیں،ڈاکٹر شیریں مزاری

جنوبی ایشیاء میں ہتھیاروں کی دوڑ سے بچنے کیلئے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر بھارت نے عمل کرنے سے انکار کردیا ہے ،وفاقی وزیر انسانی حقوق

جمعہ اپریل 00:03

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ بھارت کی جوہری ہتھیاروں میں جدیدیت اور اضافے سے خطے کا استحکام کو خطرات لاحق ہیں،جنوبی ایشیاء میں ہتھیاروں کی دوڑ سے بچنے کیلئے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر بھارت نے عمل کرنے سے انکار کردیا ہے ۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں سٹرٹیجک سٹڈیز انسٹیٹیوٹ اسلام آباد کے زیر اہتمام خواتین پارلیمنٹرینز کیلئے منعقدہ دو روزہ ورکشاپ بعنوان ’سٹرٹیجک ماحول اور اس حوالے سے پاکستان کی پالیسی‘ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی ایٹمی پالیسی پر توجہ دلاتے ہوئے خطے میں جوہری عدم پھیلاؤ اور ہتھیاروں کے کنٹرول کا تفصیلی جائزہ لیا اور شرکاء کو اس بارے آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر شیریں مزاری نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بنانا چاہتا ہے جو کہ خطے میں عدم استحکام لائے گا اور یہ پاکستان کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جوہری نظام اور ایٹمی ہتھیاروں میں تیزی لانے سے پورے خطے میں امن اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام میں دو نقطہ نظر ہیں ایک امریکی امتیازی نقطہ نظرہے اور دوسرا بین الاقوامی غیر امتیازی نقطہ نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ میں عمودی پھیلاؤ پر توجہ مرکوز ہے جو کہ باقی ممالک کیلئے بہتر نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے حوالے سے درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر تنقید کی اور کہا کہ نائن الیون کے بعد بین الاقوامی توجہ جوہری عدم پھیلاؤ کی بجائے بعض ممالک جیسے ایران اور پاکستان کے جوہری منصوبوں پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔

ڈاکٹر مزاری نے کہا کہ بھارت جوہری ہتھیاروں کی ٹریڈ میں اضافہ کر رہا ہے۔ بھارت کی جوہری ہتھیاروں میں جدیدیت اور اضافے سے خطے کا استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں ہتھیاروں کی دوڑ سے بچنے کیلئے پاکستان نے بھارت کو کئی تجاویز پیش کی ہیں جس میں جوہری ٹیسٹنگ پر پابندی اور خطے میں عدم پھیلاؤ کے نظام جیسی تجاویز ہیں جسے سے بھارت نے انکار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کے کنٹرول اور جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے اقوام متحدہ میں قرارداد بھی متعارف کرائی تھی جس میں جنوبی ایشیاء کو جوہری ہتھیاروں سے فری زون بنانا تھا لیکن بھارت نے اس سے بھی انکار کیا، ان تجاویز پر کوئی اقدامات نہ لئے گئے جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments