پاکستان تمباکو بورڈ کے کردار کو مضبوط کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی اشد ضروری ہے،اسد قیصر

بورڈ کے موجوہ نضام سروے پر کسانوں کو اعتماد نہیں ہے ،غیر جانبدارانہ سروے پروڈکشن آف کاسٹ کا انعقاد انتہائی ناگزیر ہے،کسانوں کے استحصال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا ئیگا،سپیکر قومی اسمبلی کی چیئرمین پاکستان ٹوبیکو بورڈ سے ملاقات میں گفتگو

منگل 21 ستمبر 2021 22:19

پاکستان تمباکو بورڈ کے کردار کو مضبوط کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2021ء) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان تمباکو بورڈ کے کردار کو مضبوط کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی اشد ضروری ہے،بورڈ کے موجوہ نضام سروے پر کسانوں کو اعتماد نہیں ہے اس لئے غیر جانبدارانہ سروے پروڈکشن آف کاسٹ کا انعقاد انتہائی ناگزیر ہے،کسانوں کے استحصال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا ئیگا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے چیئرمین پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے ملاقات کی ۔ سپیکر قومی اسمبلی نے ملاقات میں پاکستان تمباکو بورڈ کے قوانین میں ترامیم ،سگریٹ پر عائد ٹیکسوں میں اضافہ ،غیر جانبدارانہ کاسٹ آف پروڈکشن سروے اور کسانوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔ اسد قیصر نے کہا کہ کسانوں کے پاس پڑا ہوا موجودا سٹاک جلد سے جلد اٹھایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان تمباکو بورڈ کے کردار کو مضبوط کرنے کے لیے ان کے قوانین میں تبدیلی اشد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ تمباکو سے منسلک لاکھوں لوگوں کے جائز منافے کا انحصار پاکستان تمباکو بورڈ کے ایک مؤثر اور شفاف کرادار پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ بورڈ کے موجوہ نضام سروے پر کسانوں کو اعتماد نہیں ہے اس لئے ایک غیر جانبدارانہ سروے پروڈکشن آف کاسٹ کا انعقاد انتہائی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمباکو کاشکاروں کو درپیش مسائل پر پارلیمان میں کسانوں کی آواز بن کر ان کے حقوق کی تحفظ کرونگا اور اس سلسلے میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مروجہ قوانین میں تبدیلی کے عمل کی نگرانی وہ خود کررہاہوں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کے استحصال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا ئیگا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے حکام کو تمباکو کاشتکاروں کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کی ہدایات کرتے ہوئے پاکستان تمباکو بورڈ اور گورنس انسپکشن ٹیم سے تمباکو کے خریداری میں رکاوٹوں پر رپورٹ طلب کرلی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments