سپریم کورٹ میں ضلعی راولپنڈی کی اراضی کی جمع بندی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت

منگل اپریل 21:33

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے ضلعی راولپنڈی کی اراضی کی جمع بندی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت (آج)بدھ تک ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے پنجاب کے محکمہ جنگلات کی زمین سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ بحریہ ٹاون نے کس جگہ پر کس طرح اور کون سے قانون کے تحت زمین حاصل کی ہے، پہلے یہ ثابت کریں کہ بحریہ نے غلط طریقے سے زمین حاصل کی۔

منگل کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔اس موقع پر محکمہ جنگلات کے ریٹائرڈ افسر درخواست گزار ملک محمد شفیع نے دلائل میں کہا کہ اگر دو ہزار بارہ کی انکوائری رپورٹ غلط تھی تو اس رپورٹ کو بحریہ ٹاون کو چیلنج کرنا چاہہے تھا ۔

(جاری ہے)

ملک شفیع کے مطابق انکوائری رپورٹ پانچ جون دو ہزار تیرہ کے عدالتی آڈر کا حصہ بھی ہے ۔

درخواست گزار ملک شفیع نے بتایا کہ حدبندی کے تحت موضع تخت پڑی 2210 ایکڑ پر محیط ہے، محکمہ جنگلات ثابت کر دے کہ تمام زمین ان کے پاس موجود ہے، قبضے سے متعلق کیس ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔درخواست گزار نے مزیدبتایا کہ کلکٹر رپورٹ کے مطابق 684 ایکڑ قبضہ میں آٹھ سو تیس کنال پر تعمیرات ہو چکی ہیں، بحریہ ٹاون نے زمین ڈی ایچ اے کو فروخت کر دی ہے، سروے آف پاکستان کی نئی رپورٹ کے مطابق 724 ایکڑ پر قبضہ ہو چکا ہے ۔

درخواست گزار نے کہا کہ جن زمینوں کا بحریہ نے محکمہ جنگلات سے تبادلہ کیا وہ بھی نہیں دی گئیں ۔ عدالت اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے ۔ایک اور درخواست گزار ڈاکٹر شفیق نے کہا کہ بحریہ ٹاون نے تخت پڑی میں نہ صرف قبضے کیے بلکہ زمینوں کو بیچا بھی ہے ۔پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رزاق مرزا نے اعتراض کیا کہ ڈاکٹر شفیق کی درخواست حد بندی سے متعلق تھی، حد بندی کے بعد ان کی درخواست کا اب جواز نہیں بنتا ۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہمارے سامنے رپورٹ موجود ہے اس کا جائزہ لیں گے ۔بحریہ ٹائون کے وکیل زاہد بخاری نے عدالت میں کہا کہ اس کیس سے قبل ہمیں اس وقت کی عدلیہ کا بھی جائزہ لینا ہو گا۔ بحریہ ٹاون کے وکیل نے کہا کہ یہ کیس عوامی مفاد کے آرٹیکل 184/3 کے زمرے میں نہیں آتا ۔ عدالت نے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments