سی سی پی کا وفاقی کابینہ کی جانب سے مالی خودمختاری کے معاملے کو حل کرنے کا خیر مقدم

منگل دسمبر 23:46

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 دسمبر2020ء) وفاقی کابینہ نے 24 نومبر 2020 کو اپنے ایک اجلاس میں سی سی پی کے مئوقف کی واضح حمایت کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر ایک ایس آر او کے اجراء کی منظوری دے کر پانچ ریگولیٹر ز (ایس ای سی پی، اوگرا،پی ٹی اے ، نیپرا،پیمرا) کو مالی سال 2009-2010 سے ان کی عائد کردہ فیسوں اور محصولات سے تین فیصد فیس کمیشن کو فوری ادائیگی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس سلسلے میں وزات خزانہ نے 27نومبر 2020کو گزٹ نوٹیفیکیشن کے لئے ایک ایس آر او بھی جاری کردیا ہے اور ان پانچ ریگولٹرز کے بینکرز کو ہر سہ ماہی کے بعد مہینے کے پہلے دس دنوںمیں سرپلس کو فیڈرل کونسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرانے سے قبل، ٹوٹل فیس اور چارجز کا تین فی صد سی سی پی کے پاس جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس معاملے کو حل کرنے میں کمیشن نے وزارت خزانہ اور وزارت قانون کا بھی شکریہ ادا کیا ہے ۔

کمیشن نے پا نچ ریگولیٹری اداروں کی جانب سے تین فیصد فیس اور چارجز کمیشن کو سی سی پی فنڈمیں جاری کرنے کے ایک دہائی پرانے مسئلے کو حل کرنے اور سی سی پی کی مالی خود مختاری کو یقینی بنانے اور اسے زیادہ مئوثر ادارہ بنانے پر وفاقی حکومت کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔23 دسمبر 2008 کو وفاقی حکومت نے پانچ ریگولیٹری اداروں کی نشاندہی کی اور سی سی پی فنڈ کا حصہ بنانے کے لئے 3 فیصد رقم مقرر کی گئی۔

تمام تر اسٹیک ہولڈرز سے متعدد بار خط و کتابت ، لاء اینڈ جسٹس ڈویژ ن کی سازگار رائے ، ریگولیٹرز کی جانب سے عدم ادائیگیوںپر آڈیٹر جنرل پاکستان کے اعتراضات ، اور متعدد مواقعوں پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کی حمایت ،اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کی بھرپورسفار ش کے باوجود کمیشن اس فنڈنگ کے ذرائع کو بروئے کار لانے میں ناکام رہا ۔

کمیشن اپنی تشکیل کے شروع سے ہی ایک مقررہ سالانہ گرانٹ کے ساتھ محدود وسائل کے تحت کام کر رہا ہے ، جس کی وجہ سے ادارہ اپنے کام کے د ائرہ کار کو بڑھانے سے قاصر رہاہے ۔ چونکہ کمیشن کے عائد کردہ تمام جرمانے کی رقوم کو فیڈرل کونسولیڈیٹڈفنڈ میں جمع کیا جاتا ہے ، لہذا کمیشن مفادات کے کسی تنازعہ سے بھی بچا ہوا ہے ، جو سمجھا جاتا ہے کہ جرمانے کی رقوم اس ادارے کے آپریشنل بجٹ کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔

کمیشن کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تین فیصدفنڈنگ مناسب اور نہایت ضروری بھی ہے۔ ایک ملٹی سورس بجٹ کمیشن کی خود مختاری میں معاون ثابت ہوگا اور اس سے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے بغیر اس کے کام کی منصوبہ بندی کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ یہ ملٹی سورس فنڈنگ کمیشن کی تکنیکی اور پیشہ ورانہ ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

چیئر پرسن سی سی پی کے بیان کے مطابق اداروں کی مضبوطی کا دارومدار ان کی انتظامی اور مالی خودمختاری پر ہوتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے طویل عرصے سے زیر التواء اس معاملے کے حل سے کمیشن اپنے قانونی مینڈیٹ کو زیادہ مئوثر طریقے سے انجام دے سکے گا اور ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل بھی اب ممکن ہو سکے گا۔پاکستان کو ایسے معاشی منظرنامے کی ضرورت ہے جس میں صارفین کم قیمت ، اعلی معیاراور جدت پر مبنی مصنوعات کا فائدہ اٹھا سکیں ، اور یہ سب مارکیٹ میں کمپیٹیشن سے ہی ممکن ہے۔ ان فنڈز کی موصولی سے کمیشن معاشی طور پر خود مختار ہو جائے گا اور حکومت کے معاشی ایجنڈا پر عمل درآمد کے لئے زیادہ مئوثر طورپر مدد دے سکے گا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments