سعودی عرب کی 25 یونیورسٹیوں میں پاکستانی طلبا کے لیےمکمل فنڈڈ 600 تعلیمی وظائف 2021-22 کا اعلان

ہفتہ 25 ستمبر 2021 23:06

اسلام آباد۔25ستمبر  (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2021ء) :ریاض میں پاکستانی سفارتخانہ کے حکام نے کہا ہے کہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ مملکت سعودی عرب نے پاکستانی طلبا کے لیے 600 مکمل طور پر فنڈڈ وظائف کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ مملکت میں ڈپلومہ ، بیچلر ، ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم حاصل کر سکیں۔ پاکستان میں مقیم طلبا اور سعودی عرب میں قانونی رہائشی طلبا ان وظائف کے لیے درخواستیں دے سکتے ہیں۔

پاکستانی سفارتخانہ کی طرف سے جاری تفصیلات میں اسکالرشپ کے لیے درخواست دینے کا طریقہ کارسے بھی آگاہ کیا گیا ہے جس کے مطابق طلبا یونیورسٹی کی ویب سائٹ/ آن لائن پورٹل پر براہ راست درخواست دے سکتے ہیں۔ ہر یونیورسٹی کا اپنا اہلیتی معیار اور درخواست کا وقت مقرر ہے ، طلبا کو ہر اصول/کورس/یونیورسٹی کے اہلیت کے معیار کے لیے ویب سائٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

یہ وظائف تقریبا تمام شعبوں کے لیے اعلان کئے گئے ہیں جن میں سیاسیات ، قانون ، تعلیم ، انتظامیہ ، معاشیات ، انجینئرنگ ، کمپیوٹر سائنس ، زراعت ، عربی / اسلامک اسٹڈیز اور میڈیا علوم شامل ہیں۔وظائف  میں ڈپلومہ کورسز، بیچلر ، ماسٹر اور پی ایچ ڈی کے پروگرام بھی شامل کئے گئے ہیں۔ یہ وظائف سعودی عرب کی 25 یونیورسٹیوں نے پیش کئے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں درج ہے۔

پرنس نورا بنت عبدالرحمن یونیورسٹی برائے گرلز ، ریاض اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہکے علاوہ ہر یونیورسٹی صرف 5 فیصد بین الاقوامی طلبا کو داخلہ دینے کی مجاز ہے ۔ پرنس نورا بنت عبدالرحمن یونیورسٹی برائے گرلز ، ریاض میں داخلے کی شرح 8 فیصد ہے ، جبکہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ مجموعی نشستوں کا 85 فیصد اسکالرشپ پر داخلہ دیتی ہے۔ یونیورسٹی درخواستیں سعودی وزارت تعلیم کو ارسال کرے گی جو اہل درخواست گزاروں کے حتمی ایوارڈ کا فیصلہ کرے گی۔

درخواست دہندگان کو جمع کرائی گئی درخواست کی نقل ریاض میں پاکستانی سفارت خانہ کو آن لائن Parepriyadh@mofa.gov.pk کی آفیشل ای میل پر بھجوانی ہو گی۔ اس کے بعد سفارت خانہ سعودی وزارت تعلیم کے ساتھ اسکالرشپس کے لیے فالو اپ کرے گا۔ درخواست دہندہ پاکستانی یا آزاد جموں وکشمیر کا سکونتی ہونا چاہیے۔پاکستان سے 75 فیصد طلبا کو سکالر شپ دی جائیں گی، جبکہ 25 سکالرشپس سعودی عرب میں مقیم پاکستانی طلبا کو دی جائیں گی۔

طلبہ و طالبات دونوں وظائف کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست گزار کی عمر 17 سال سے 25 سال یا بیچلر پروگرام ، ماسٹر پروگرام کے لیے 30 سال اور پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے 35 سال سے کم ہونی چاہیے۔ منتخب درخواست گزار ہر سال ستمبر/اکتوبر میں سعودی عرب میں پروگرام شروع کریں گے۔ سعودی اسکالرشپ حاصل کرتے وقت درخواست گزار کے پا  س کوئی دوسری اسکالرشپ نہیں ہونی چاہیے۔

درخواست گزار کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہونا چاہیے اور درخواست دہندہ کو کسی بھی تعلیمی ادارے سے انضباطی یا کسی اور بنیاد پر معطل نہ کیا گیا ہو۔ اسکالرشپ کے تحت طلبا کو مفت رہائش فراہم کی جائے گی۔ 03 ماہ کے شادی شدہ اسکالرز کے لیے سعودی عرب آمد پر فرنشننگ الائونس دیا جائے گا۔ جبکہ ریٹرن ایئر ٹکٹ دیا جائے گا ۔شادی شدہ طالب علم اور اس کی فیملی کے لیے مفت میڈیکل کی سہولت دی جائے گی۔

کتابوں کی ترسیل کے لیے 3 ماہ کا گریجویشن الائونس کیمپس میں رعایت کھانا، کیمپس میں کھیل اور تفریحی سرگرمیاں ، اہلخانہ کے لیے معاونت اور سفری اخراجات دیئے جائیں گے۔ سائنس کے طلبا کو 900 سعودی ریال (SR) کا ماہانہ الائونس دیا جائے گا اور ہیومینیٹیزکے طلبا کو 850 سعودی ریال بطور ماہانہ خرچ دیا جائے گا۔ اسکالر شپسس کی پیشکش کرنے والی یونیورسٹیوں میں جدہ یونیورسٹی www.uj.edu.sa، بشا یونیورسٹی www.ub.edu.sa، ام القرا یونیورسٹی www.uqu.edu.sa، اسلامی یونیورسٹی www.iu.edu.sa، امام محمد ابن سعود اسلامی یونیورسٹی www.iu.edu.sa، شاہ سعود یونیورسٹی www.ksu.edu.sa، شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی www.kau.edu.sa، حفر البطین یونیورسٹی www.uhb.edu.sa، شاہ فیصل یونیورسٹی www.kfu.edu.sa، شاہ خالد یونیورسٹی www.portal.kku.edu.sa، قاسم یونیورسٹی www.qu.edu.sa، طیبہ یونیورسٹی www.taibahu.edu.sa، طائف یونیورسٹی www.tu.edu.sa، ہیل یونیورسٹی www.uoh.edu.sa، جازان یونیورسٹی www.nu.edu.sa ، الجوف یونیورسٹی www.ju.edu.sa، البہا یونیورسٹی www.prtal.bu.edu.sa، تبوک یونیورسٹی www.ut.edu.sa، نجران یونیورسٹی www.nu.edu.sa، نادرن بارڈر یونیورسٹی www.nbu.edu.sa، پرنسز نورا یونیورسٹی www.pnu.edu.sa، امام عبدالرحمن یونیورسٹی www.iau.edu.sa، پرنس ستم بن عبدالعزیز یونیورسٹی www.psau.edu.sa، شاکرہ یونیورسٹی www.sa.edu.sa اور مجمعہ یونیورسٹی www.mu.edu.sa شامل ہیں۔



اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments