اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںاومنی گروپ کے مالک انور مجید کی درخواست کی سماعت کے دور ایف آئی اے ..

اومنی گروپ کے مالک انور مجید کی درخواست کی سماعت کے دور ایف آئی اے نے جمع کرانے کیلئے مہلت مانگ لی

ایف آئی اے سے ان کے خلاف زیر التواء انکوائری کی بھی تفصیلات مانگی جائیں ،ْ انور مجید کی استد عا

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اکتوبر2018ء) منی لانڈرنگ اسکینڈل میں گرفتار اومنی گروپ کے مالک انور مجید کی درخواست کی سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی ای) نے جمع کرانے کے لیے مہلت مانگ لی۔ منگل کو سندھ ہائیکورٹ نے انور مجید کی ایف آئی اے کے خلاف درخواست کی سماعت کی تو ایف آئی اے نے عدالت سے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت مانگی جس پر عدالت نے تفتیشی افسر نجف مرزا کو 20 نومبر کو طلب کرلیا۔

انور مجید نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے جھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں اس لیے ادارے کو ہراساں کرنے سے روکا جائے اور مقدمات کی تفصیلات بتائی جائے۔درخواست میں انور مجید نے عدالت سے استدعا کی کہ ایف آئی اے سے ان کے خلاف زیر التواء انکوائری کی بھی تفصیلات مانگی جائیں۔

(خبر جاری ہے)

یاد رہے کہ ایف آئی اے حکام نے بتایا تھا کہ منی لانڈنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اٹھایا گیا ،ْ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایف آئی اے کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔

حکام کے دعوے کے مطابق جعلی اکاؤنٹس بینک منیجرز نے انتظامیہ اور انتظامیہ نے اومنی گروپ کے کہنے پر کھولے اور یہ تمام اکاؤنٹس 2013 سے 2015 کے دوران 6 سے 10 مہینوں کیلئے کھولے گئے جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی اور دستیاب دستاویزات کے مطابق منی لانڈرنگ کی رقم 35ارب روپے ہے۔مشکوک ترسیلات کی رپورٹ پر ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ کے حکم پر انکوائری ہوئی اور مارچ 2015 میں چار بینک اکاؤنٹس مشکوک ترسیلات میں ملوث پائے گئے۔

ایف آئی اے حکام کے دعوے کے مطابق تمام بینک اکاؤنٹس اومنی گروپ کے پائے گئے ،ْانکوائری میں مقدمہ درج کرنے کی سفارش ہوئی تاہم مبینہ طور پر دباؤ کے باعث اس وقت کوئی مقدمہ نہ ہوا بلکہ انکوائری بھی روک دی گئی۔دسمبر 2017 میں ایک بار پھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ایس ٹی آرز بھیجی گئیں، اس رپورٹ میں مشکوک ترسیلات جن اکاؤنٹس سے ہوئی ان کی تعداد 29 تھی جس میں سے سمٹ بینک کے 16، سندھ بینک کے 8 اور یو بی ایل کے 5 اکاؤنٹس ہیں۔

ان 29 اکاؤنٹس میں 2015 میں بھیجی گئی ایس ٹی آرز والے چار اکاؤنٹس بھی شامل تھے ،ْ 21 جنوری 2018 کو ایک بار پھر انکوائری کا آغاز کیا گیا۔تحقیقات میں ابتداء میں صرف بینک ملازمین سے پوچھ گچھ کی گئی، انکوائری کے بعد زین ملک، اسلم مسعود، عارف خان، حسین لوائی، ناصر لوتھا، طحٰہ رضا، انور مجید، اے جی مجید سمیت دیگر کو نوٹس جاری کیے گئے ،ْ ان کا نام اسٹاپ لسٹ میں بھی ڈالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق تمام بینکوں سے ریکارڈ طلب کیے گئے تاہم انہیں ریکارڈ نہیں دیا گیا، سمٹ بینک نے صرف ایک اکاؤنٹ اے ون انٹرنیشنل کا ریکارڈ فراہم کیا جس پر مقدمہ درج کیا گیا۔حکام نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے سمٹ بنک کو ایکوٹی جمع کروانے کا نوٹس دیا گیا، سمٹ بینک کے چیئرمین ناصر لوتھا کے اکاؤنٹس میں 7 ارب روپے بھیجے گئے، یہ رقم اے ون انٹرنیشنل کے اکاؤنٹ سے ناصر لوتھا کے اکاونٹ میں بھیجی گئی تھی ،ْناصر لوتھا نے یہ رقم ایکوٹی کے طور پر اسٹیٹ بینک میں جمع کروائی، ان 29 اکاؤنٹس میں 2 سے 3 کمپنیاں اور کچھ شخصیات رقم جمع کرواتی رہیں۔

حکام نے بتایا کہ تحقیقات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جو رقم جمع کروائی گئی وہ ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی ،ْان تمام تحقیقات کے بعد جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اومنی گروپ کے مالک انور مجید اور سمٹ بینک انتظامیہ پر جعلی اکاؤنٹس اور منی لاڈرنگ کا مقدمہ کیا گیا جبکہ دیگر افراد کو منی لانڈرنگ کی دفعات کے تحت اسی مقدمے میں شامل کیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں