کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد افسر کو انتقاماََ گلے لگانے والا شخص غائب ہو گیا

شہزاد انور کے خلاف مقدمہ درج، سات روز میں جواب جمع نہ کروانے اور کورونا پازیٹو ثابت ہونے کی صورت میں بڑی مشکل میں پھنس سکتے ہیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ دسمبر 15:06

کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔05 دسمبر 2020ء) کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد افسر کو انتقاماََ گلے لگانے والے ملازم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا تھا کہ وہ معطل اہلکار کو گرفتار نہیں کر سکے اور انہیں اس دعوے کے پیش نظر خصوصی انتظامات کرنے ہوں گے کہ وہ کورونا وائرس میں مبتلا تھا۔دریں اثنا ، اس واقعہ کے بعد کے ایم سی ہیڈ آفس کو ڈس انفیکٹ بھی کیا گیا۔

افسران کو گلے لگانے پر کورونا پازیٹو کے ایم سی افسر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔شہزاد انور کے خلاف مقدمہ سٹی کورٹ تھانے میں درج کیا گیا ہے ۔یہ مقدمہ متاثرہ ڈائریکٹر جمیل فاروقی نے درج کروایا،مقدمہ ار سرکار میں مداخلت اور دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔جمیل فاروقی نے پولیس کو بیان دیا کہ کہ شہزاد انور کچھ افراد کے ہمراہ میرے دفتر میں آیا، زبردستی مجھے گلے لگایا ، گردن پر چوما اور بعد میں بتایا کہ وہ کورونا پازیٹو ہے۔

(جاری ہے)

پولیس کا کہنا ہے کہ اگر ملزم میں کورونا ثابت ہوگیا تو وہ وبائی امراض پھیلانے کی دفعات بھی شامل کی جائے گی۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہزاد انور کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے۔شوکاز نوٹسز میں استدعا کی گئی ہے کہ شہزاد نور کے خلاف کارروائی کی جائے،کورونا میں مبتلا مریض سے سات روز میں جواب طلب کیا گیا ہے جو آپ کی خدمت میں محکمانہ محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ کے ایم سی ہیڈ آفس میں کل ایک انوکھا واقعہ پیش آیا تھا ،جہاں تنخواہ نہ ملنے پر ملازم نے افسر سے ایسا بدلہ لیا کہ ہر کوئی حیران رہ گیا،بتایا گیا کہ کے ایم سی افسر شہزاد انور نے تنخواہ روکنے پر ڈائریکٹر ایچ آر کو گلے لگا لیا اور گال پر بوسہ بھی دیا۔پہلے انہوں نے افسر سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی تاہم کورونا ایس او پیز کی وجہ سے ہاتھ ملانے میں ناکام رہا جس کے بعد اس نے اپنے افسر کو پیچھے سے گلے لگایا اور گال پر بوسہ بھی دے دیا،ملازم نے یکے بعد دیگرے کئی بوسے دیے۔شہزاد انور نے جمیل فاروقی سے ملنے کے بعد اپنے کورونا مریض ہونے کا انکشاف کیا اور انتقام لینے کے لئے یہ عمل کیا ۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments