ملیرلیاقت مارکیٹ انتظامیہ غیر قانونی قرار، سرگرمیاں روکنے کا حکم دیدیا گیا، حنیف گھانچی اور کابینہ غیر قانونی قرار

الشیخ گروپ کی جانب سے شکایت پر حکومت سندھ نے نوٹس جاری کردیا، لیاقت ویلفیر ایسوسی ایشن کا سربراہ ایاز احمد کو مقرر کئے جانے کا امکان

اتوار 5 دسمبر 2021 22:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 دسمبر2021ء) ملیرلیاقت مارکیٹ انتظامیہ غیر قانونی قرار، سرگرمیاں روکنے کا حکم دیدیا گیاتفصیلات کے مطابق حکومت سندھ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نیلیاقت مارکیٹ انتظامیہ کے خود ساختہ صدر حنیف گھانچی، نائب صدر انیس اور جنرل سیکریڑی ندیم کولیاقت مارکیٹ کے تمام امور اورسرگرمیوں کو فوری روکنے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

محکمہ کو لیاقت مارکیٹ کے فنڈز میں خردبرد تجاوزات کی شکایت موصول ہوئی ہے اور یہ اقدام الشیخ گروپ کے صدر اور 31دوکانداروں کی شکایت پر کیا گیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ضروری کارروائی کے بعد لیاقت مارکیٹ کی انتظامی امور الشیخ گروپ کے حوالے کردے معلوم چلا ہے کہ لیاقت مارکیٹ میں تین ہزاردوکانداروں کے بجائے من پسند 776 کو ایسوسی ایشن کا رکن بنایا گیا تھا جس کے باعث لیاقت مارکیٹ کے دکاندار شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

الشیخ گروپ نے الزام عائد کیا ہے کہ حنیف گھانچی نے اربوں روپے کی جائیداد بنالی ہیں۔ کے الیکٹرک اور جنریٹر مافیا کی ملی بھگت سے لیاقت مارکیٹ کے دکانداروں پر لوڈ شیڈنگ کا عذاب مسلط کر رکھا ہے حالانکہ کے الیکٹرک کی جانب سے کاروباری مراکز کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔ لیاقت مارکیٹ کے دکانداروں نے اعلء حکام سے اپیل کی ہے کہ کرپٹ اور نام نہاد ایسوسی ایشن سے عوام اور دکانداروں کو نجات دلائی جائے۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments