کراچی،یونیورسٹی روڈ پر گزشتہ چار ماہ سے جاری زیر تعمیر روڈ کا دوسرا ٹریک تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوگیا

اتوار اپریل 16:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2017ء) شہر قائد کے یونیورسٹی روڈ پر گزشتہ چار ماہ سے جاری زیر تعمیر روڈ کا دوسرا ٹریک تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے منصوبے کے سبب ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا تھا۔تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی روڈ حسن اسکوائر تا نیپا چورنگی پر گزشتہ چار ماہ سے جاری زیر تعمیر روڈ کا ایک ٹریک کی تکمیل کے بعد اب دوسرا ٹریک بھی تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے، روڈ کارپیٹنگ کا کام جاری ہے، عین ممکن ہے ایک سے دو روز میں دونوں ٹریک مکمل ہوجائیں گے۔

دوسری جانب صفورا چورنگی پر جو گزشتہ چار سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا، صفورا چورنگی کے اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاری لگی نظر آتی ہیں، صفورا روڈ کا ایک ٹریک کے کچھ حصوں پر کارپیٹنگ جاری ہے، جبکہ دوسرے ٹریک پر بڑھے بڑھے گڑھوں کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

محکمہ موسمیات کے اطراف نادرا آفس کی موجودگی کے سبب شہریوں کو صبح سویرے مذکورہ روڈ سے گزر ہوتا ہے، یہی نہیں یونیورسٹی کے طلبا بھی اسی روڈ سے تعلیم کے حصول کے لیے کراچی یونیورسٹی جاتے ہیں جس کے سببب روڈ کی تعمیر میں سست روی کی وجہ سے طلبا کو یونیورسٹی پہنچنے میں تاخیر کا سامنا رہتا ہے اور گرد اور دھوئیں کی کوفت سے گزرنا پڑتا ہے۔

طلبا اور محکمہ موسمیات کے رہائشیوں نے حکومت وقت سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ روڈ کی تعمیر میں تیزی لائی جائے تاکہ شہریوں کو دہرے عذاب سے نجات مل سکے۔حکومت وقت کو چاہئے تھا کہ ایک ہی وقت میں تین سے چار مرکزی شاہراہوں پر ترقیاتی کام کے آغاز سے قبل کسی ایک کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرلیا جاتا تو شہری ٹریفک جام کے عذاب سے بچ جاتے، تاہم اب تو ترقیاتی کام کا آغاز ہوچکا اب مذکورہ شاہراہیں بننے کے بعد ہی شہریوں کو ٹریفک جام کے عذاب سے نجات مل سکے۔ واضح رہے کہ بجٹ 2013 میں مذکورہ سڑکوں کی تعمیر کے لئے رقم مختص کی گئی تھی یہی نہیں بجٹ دو ہزار سولہ کے بجٹ میں بھی 20 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ تاہم حکومت سندھ کی جانب سے سڑک کی تعمیر کے لئے 2017 کا انتخاب کیا گیا۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments