․سندھ ہائی کورٹ کی محکمہ جنگلات کی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت، سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی

نیب افسران خود دل پرہاتھ رکھ کر بتائیں ان کے ساتھ یہ ہوتوکیسا لگی ، ہمیں اعلی افسران کوبار بار طلب کرتے اچھا نہیں لگتا،دوران سماعت چیف جسٹس کے ریماکس

جمعرات اپریل 15:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2019ء) سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ جنگلات کی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی ہے۔جمعرات کوسندھ ہائی کورٹ میں محکمہ جنگلات کی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے افسران سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب قومی ادارہ ہے کیوں اس کے پیچھے پڑے ہیں پہلے ایک تفتیشی افسرنے کہاکہ زمین فروخت نہیں پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ بتایا جائے اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیس میں شکایت کنندہ کون ہے،کیا کوئی خدائی فوجدار ہی ۔سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ تین سال سے ایک شخص کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، کردارکشی ہورہی ہے، ہر شخص کی برادری ، محلہ ہوتا ہے، خیال کیا کریں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ نیب افسران خود دل پرہاتھ رکھ کر بتائیں ان کے ساتھ یہ ہوتوکیسا لگی ، ہمیں اعلی افسران کوبار بار طلب کرتے اچھا نہیں لگتا۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو معلوم ہی نہیں نیب میں ہو کیا رہا ہے، کیس افسر اور ڈائریکٹر نیب عدالت کو جواب نہ دے سکے۔چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ جنگلات کی زمین بیچی گئی ملک پر کچھ تو رحم کرتے۔بعدازاں عدالت نے محکمہ جنگلات کی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments